غزہ فلسطینیوں کا دبئی بنے گا،53ارب ڈالر کے مصرپلان کی منظوری

غزہ فلسطینیوں کا دبئی بنے گا،53ارب ڈالر کے مصرپلان کی منظوری
کیپشن: غزہ فلسطینیوں کا دبئی بنے گا،53ارب ڈالر کے مصرپلان کی منظوری

ویب ڈیسک: فلسطینیوں کا دبئی ۔۔20 لاکھ فلسطینیوں کی آبادکاری کیلئے عرب رہنماؤں  نے غزہ کی تعمیر نو کے لئے ٹرمپ منصوبے کے متبادل 53 ارب ڈالر کے’’ مصر پلان ’’ کی منظوری دی  ہے۔اسرائیل نے غزہ سے متعلق عرب منصوبہ مسترد کر دیا ، حماس کا خیر مقدم ۔

خیال رہے کہ ٹرمپ نے غزہ سے 20 لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کی عرب ممالک میں منتقلی کا منصوبہ پیش کیا تھا۔

ٹرمپ کے منصوبے کا متبادل مصر کی طرف سے پیش کیا گیا ہے جو 91 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں دلکش اماراتی ڈیزائنز ہیں۔ خیال رہے کہ عرب ممالک نے امریکی منصوبے کی مذمت کی تھی۔

مصر پلان اس لیے مختلف ہے کیونکہ اس میں محض پراپرٹی کی تعمیر کی بات نہیں کی گئی۔ اس کے بینرز سیاسی نوعیت کے ہیں اور اس میں فلسطینیوں کے حقوق کی بات بھی کی گئی ہے۔

اسرائیلی وزارت خارجہ نے غزہ کی پٹی سے متعلق عرب ممالک کا منصوبہ مسترد کر دیا ہے۔منگل کے روز جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عرب سربراہ اجلاس کے اختتام پر جاری بیان غزہ کی حقیقی صورت حال کا علاج نہیں کرتا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق حماس تنظیم غزہ میں باقی نہیں رہ سکتی۔

دوسری جانب فلسطینی تنظیم حماس نے قاہرہ میں عرب سربراہان کے ہنگامی اجلاس کے انعقاد کا خیر مقدم کیا ہے۔ تنطیم کے مطابق اس اجلاس کا انعقاد فلسطینی قضیے کے سلسلے میں عرب اور اسلامی صف بندی کی اعلیٰ پیش رفت ہے۔ تنظیم نے عرب سربراہ اجلاس میں منظور کیے گئے غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔

حماس نے غزہ کے انتظامی امور چلانے کے لیے معاون کمیٹی کی تشکیل کے فیصلے کی حمایت کی۔

 مصر پلان  فلسطین اور عرب ممالک کے تعاون سے پیش کیا ہے اور اس کی بنیاد جامع عرب پلان کے طور پر غزہ کی جلد بحالی اور تعمیر نو کے حوالے سے ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ کے ڈیویلپمنٹ پروگرام پر ہونے والی تحقیقات پر رکھی گئی ہے۔

مصرپلان کا اعلان عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد اعبدالغیث نے کیا ۔

اہم بات یہ ہے کہ اس منصوبے کے تحت غزہ کے 20 لاکھ سے زیادہ رہائشیوں کو اپنی اس زمین پر رہنے کا حق دیا گیا ہے جسے ان کے خاندان کی کئی نسلیں اپنا گھر کہتی ہیں۔

سودے میں صدر ٹرمپ کے غزہ پر ’قبضے‘ کے منصوبے کا براہ راست ذکر نہیں ہے اور نہ ہی اس میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ فلسطینیوں کو پڑوسی ممالک میں منتقل کرنے کا امریکی پلان تشکیل دیا گیا ہے۔ تاہم اس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ ایسے کسی منصوبے سے مزید تباہی ہو گی۔

اس میں متنبہ کیا گیا ہے کہ ’ فلسطینیوں کو (غزہ سے) بے دخل کرنے یا مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو ضم کرنے کی بدنیتی پر مبنی کوششوں سے لڑائی کے نئے مرحلے شروع ہو سکتے ہیں جس سے استحکام کے مواقعوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ اس سے لڑائی خطے کے دیگر ملکوں میں پھیلے گی اور یہ مشرق وسطیٰ کی امن کی بنیادوں کے لیے واضح خطرہ ہے۔‘

اس سے قبل مصری صدر عبدالفتاح السيسی نے اعلان کیا کہ قاہرہ میں منگل کے روز منعقد ہونے والے عرب سربراہان کے ہنگامی اجلاس میں غزہ کی تعمیر نو کا منصوبہ منظور کر لیا گیا۔ مصر نے تجویز دی ہے کہ جلد از جلد بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی جائے تاکہ تعمیر نو ممکن ہو سکے۔

عرب سربراہ اجلاس کے اختتامی بیان میں کہا گیا کہ غزہ میں سیکورٹی کا معاملہ فلسطینی قانونی اداروں کو چلانا چاہیے اور غزہ کی عارضی انتظامیہ فسلطینی حکومت کے زیر سایہ کام کرے گی۔اسی طرح یہ واضح کیا گیا کہ غزہ میں صرف قانونی ہتھیاروں کی اجازت دی جائے گی۔ بیان میں باور کرایا گیا کہ عرب ممالک کا تزویراتی آپشن ایک منصفانہ اور جامع امن کو یقینی بنانا ہے جو فلسطینی عوام کے تمام حقوق کو پورا کرے۔

بظاہر امیر خلیجی ریاستیں اس خطیر رقم کے لیے کچھ حصہ ادا کرنے کو تیار ہیں۔ اقوام متحدہ کا انداز ہے کہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے قریب 50 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔تاہم کوئی بھی سرمایہ کاری کرنے کو تب تک تیار نہیں جب تک انھیں یقین نہ ہو جائے کہ ایک اور جنگ میں تمام نئی تعمیرات کو گِرا نہیں دیا جائے گا۔

ذرائع کی جانب سے اس کی تصدیق کی گئی ہے  غزہ کا انتظام چلانے کے لئے ایک عبوری انتظام کی تجویز دی گئی ہے  جس کے تحت  ایسی کمیٹی بنائی جائے گی  جسے فلسطینی حکومت کی چھتری تلے غزہ مینجمنٹ کمیٹی کا نام دیا جائے گا۔‘

Watch Live Public News