ویب ڈیسک: قومی اسمبلی نےنیب ترمیمی بل 2026 کثرتِ رائے سے منظور کر لیا، جسے اس سے قبل سینیٹ بھی منظوری دے چکی تھی۔
بل کے تحت نیب آرڈیننس کی سیکشن 4، 5، 6 اور 9 میں ترامیم کی گئی ہیں۔ نئی ترامیم کے مطابق حکومت کو چیئرمین نیب کی تین سالہ مدت مکمل ہونے پر مزید تین سال کی توسیع دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔
بل میں نئی دفعہ 32 اے بھی شامل کی گئی ہے جس کے تحت نیب مقدمات میں ملزمان کو دوسری اپیل کا حق دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف 30 دن کے اندر وفاقی آئینی عدالت میں اپیل دائر کی جا سکے گی۔
اپوزیشن رہنما بیرسٹر گوہر نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے امتیازی قانون سازی قرار دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ اس سے عدلیہ مزید متنازع ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ اس بل پر حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات تھے، تاہم بعد ازاں اتفاقِ رائے ہونے پر بل کی منظوری کی راہ ہموار ہو گئی۔