(ویب ڈیسک ) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا ۔
اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 1 فیصد کمی کا اعلان کر دیا۔ اسٹیٹ بینک نے شرحِ سود 12 فیصد سے کم کر کہ 11 فیصد کر دی۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق بجلی کی قیمتوں اور غذائی مہنگائی میں کمی کے باعث افراطِ زر تیزی سے کم ہوئی، مہنگائی کا منظر نامہ گزشتہ تخمینے کے مقابلے میں مزید بہتر ہوا ہے، تجارتی ٹیرف سے عالمی غیریقینی کیفیت معیشت کے لیے چیلنجز کا سبب بن سکتی ہے ہیں۔
اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ مالی سال 25ء کی دوسری سہ ماہی کی سالانہ جی ڈی پی نمو 1.7 فیصد رہی، مالی سال 25ء کی پہلی سہ ماہی کی نمو 0.9 فیصد پر نظر ثانی کرکے اسے 1.3 فیصد کردیا گیا۔ مارچ میں کرنٹ اکاؤنٹ 1.2 ارب ڈالر کا سرپلس ریکارڈ ہوا جس کی بڑی وجہ ترسیلات زر ہیں، حالیہ سرویز سے صارفین اور کاروبار دونوں کے احساسات میں مزیدبہتری ظاہر ہوتی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق ٹیکس وصولی کے شارٹ فال میں اضافہ ہوا ہے، امریکی ٹیرف پالیسی کے باعث آئی ایم ایف نے اپنی 2025ء اور 2026ء کی نمو کی پیشگوئیوں کو کم کیا، ٹیرف سے متعلق غیریقینی کیفیت تیل کی عالمی قیمتوں میں تیزی سے کمی کا بھی سبب بنی۔