میلاٹونن کے طویل استعمال سے دل کی ناکامی کا خطرہ بڑھنے کا انکشاف

میلاٹونن کے طویل استعمال سے دل کی ناکامی کا خطرہ بڑھنے کا انکشاف
کیپشن: میلاٹونن کے طویل استعمال سے دل کی ناکامی کا خطرہ بڑھنے کا انکشاف

ویب ڈیسک: امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن کے 2025 سائنٹیفک سیشنز میں پیش کی گئی ابتدائی تحقیق کے مطابق، میلاٹونن کا طویل استعمال دل کی ناکامی کے خطرے کو نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ جو افراد میلاٹونن کو نیند کے لیے طویل عرصے تک استعمال کرتے ہیں، اُن میں سنگین دل کی بیماریاں لاحق ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے،  ایمرجنسی علاج کی ضرورت پیش آ سکتی ہیں اور بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔

TriNetX گلوبل ریسرچ نیٹ ورک کے ذریعے کیے گئے تجزیے میں 1 لاکھ 30 ہزار بالغ افراد کے پانچ سالہ طبی ریکارڈز شامل کیے گئے۔ نتائج سے پتہ چلا کہ میلاٹونن کے ایک سال تک استعمال کرنے والوں میں دل کی ناکامی کا خطرہ 90 فیصد زیادہ تھا، اور اسپتال میں داخل ہونے کا خطرہ 3.5 گنا بڑھ گیا۔

ماہرین کے مطابق میلاٹونن کو امریکہ میں نیند کی کمی کے لیے طویل مدتی علاج کے طور پر منظور نہیں کیا گیا، اور چونکہ یہ غیر ریگولیٹڈ سپلیمنٹ ہے، اس کی طاقت اور خالصیت مختلف برانڈز میں مختلف ہو سکتی ہے۔

تحقیق میں یہ بھی کہا گیا کہ اگرچہ میلاٹونن کے طویل استعمال سے دل کی صحت پر ممکنہ خطرات سامنے آئے ہیں، مگر اس کے اثرات اور وجہ کی تحقیق میں مزید کام کی ضرورت ہے۔

Watch Live Public News