ویب ڈیسک: 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے حکومت کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہے، جس کے لیے قومی اسمبلی میں 224 جبکہ سینیٹ میں 64 اراکین کی حمایت ضروری ہے۔
تفصیلات کے مطابق، حکومت کو قومی اسمبلی میں 237 ارکان کی حمایت حاصل ہے، لہٰذا ایوان زیریں سے آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے کسی اپوزیشن رکن کی حمایت کی ضرورت نہیں۔
ذرائع کے مطابق، قومی اسمبلی میں حکمراں اتحاد کے اعداد و شمار میں مسلم لیگ ن کے پاس 125 ارکان،پیپلزپارٹی کے پاس 74،ایم کیو ایم کے پاس 22،مسلم لیگ ق کے پاس 5، استحکام پاکستان پارٹی کے پاس 4ارکان کی حمایت موجود ہے۔ اسی طرح نیشنل پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی اورمسلم لیگ ضیا کے1،1 ارکان اسمبلی میں موجود ہیں۔ جبکہ 4 آزاد اراکین کی حمایت بھی حکمران جماعت کے پاس موجود ہے۔
یوں حکومت کے پاس قومی اسمبلی میں مجموعی طور پر 237 ووٹ ہیں، جب کہ آئینی ترمیم کے لیے صرف 224 ووٹ درکار ہیں۔
البتہ سینیٹ میں حکومت کو اب بھی دو تہائی اکثریت حاصل نہیں۔ ایوانِ بالا میں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے 64 ووٹ درکار ہیں، جب کہ حکومتی اتحاد کو فی الحال 61 سینیٹرز کی حمایت حاصل ہے۔
سینیٹ میں حکومتی اتحاد کے نمبرز درج ذیل ہیں۔ پیپلزپارٹی کے پاس 26 سینیٹرز، مسلم لیگ ن کے پاس 20، بلوچستان عوامی پارٹی کے پاس 4،ایم کیو ایم کے پاس 3، نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ ق کے پاس 1،1 سینیٹر موجود ہے۔ اس کے علاوہ 3 آزاد سینیٹرز بھی حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں۔
ذرائع کے مطابق، حکومت کو آئینی ترمیم منظور کرانے کے لیے مزید تین ووٹوں کی ضرورت ہے، جو ممکنہ طور پر فیصل واوڈا، انوار الحق کاکڑ اورایک اورآزاد سینیٹر کی حمایت سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
سیاسی ماہرین کے مطابق، قومی اسمبلی میں حکومتی اکثریت آئینی ترمیم کی راہ ہموار کر چکی ہے، تاہم سینیٹ میں تین اضافی ووٹوں کی حمایت فیصلہ کن ثابت ہوگی۔