اب تک ریکارڈ کیا گیا سب سے طاقتور بلیک ہول فلیئر، چمک10 کھرب سورجوں  کے برابر

اب تک ریکارڈ کیا گیا سب سے طاقتور بلیک ہول فلیئر، چمک10 کھرب سورجوں  کے برابر

(ویب ڈیسک ) ایک ایسی روشنی کی چمک( جو ہم تک پہنچنے کے لیے 10 ارب سال تک خلا میں سفر کرتی رہی) میں ماہرینِ فلکیات نے ایک ایسا واقعہ دریافت کیا ہے جو بلیک ہول سے خارج ہونے والی اب تک کی سب سے طاقتور اور دور ترین توانائی کی لہر ہے۔اس دھماکہ خیز روشنی کا عروج اتنا روشن تھا کہ اس کی چمک 10 کھرب سورجوں کے برابر تھی۔

کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (Caltech) کے ماہرِ فلکیات میتھیو گراہم کی سربراہی میں ایک ٹیم کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی ممکنہ وجہ ایک سپرماسِو بلیک ہول (جس کا وزن سورج کے مقابلے میں تقریباً 500 ملین گنا زیادہ ہے) تھا، جس نے ایک بدقسمت ستارے کو نگل لیا جو غلطی سے بہت قریب آ گیا تھا۔
ایسے واقعات کو ٹائیڈل ڈسٹرپشن ایونٹس (TDEs) کہا جاتا ہے۔

گراہم کا کہنا ہے کہ “توانائی کے پیمانے ظاہر کرتے ہیں کہ یہ شے نہایت دور بھی ہے اور بےحد روشن بھی۔ یہ کسی بھی ایسے فعال کہکشانی مرکز (AGN) جیسا نہیں جو ہم نے پہلے دیکھا ہو۔”

یہ واقعہ 2018 میں سامنے آیا، جب J2245+3743 نامی بلیک ہول نے چند مہینوں میں اپنی روشنی کو 40 گنا بڑھا لیا اور یہ اس وقت دیکھے گئے دوسرے سب سے طاقتور AGN فلیئر (جسے "Scary Barbie" کہا جاتا تھا) سے بھی 30 گنا زیادہ روشن تھا۔

اپنے عروج پر پہنچنے کے بعد سے J2245+3743 بتدریج مدھم ہو رہا ہے، لیکن ابھی تک وہ اپنی اصل روشنی کی سطح تک واپس نہیں آیا۔

جب محققین نے مارچ 2025 میں اپنا مقالہ جمع کرایا، تو ان کے مطابق اس فلیئر سے خارج ہونے والی کل توانائی تقریباً 10⁵⁴ ارگ (erg) تھی  جو سورج کے پورے ماس کو الیکٹرو میگنیٹک ریڈی ایشن میں تبدیل کرنے کے برابر ہے۔

دیگر ممکنہ فلکیاتی واقعات کچھ دوسرے کائناتی واقعات بھی ایسے ہیں جو اچانک چمک پیدا کرتے ہیں اور پھر بتدریج مدھم ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر

BOAT (Brightest of All Time) — اب تک کا سب سے روشن گاما رے برسٹ(Gama Ray Brust)، جو ایک سپرنووا دھماکے اور نئے بلیک ہول کی پیدائش کے دوران ہوا۔
کیلونوا (Kilonova) — جب دو نیوٹران ستارے آپس میں ٹکراتے ہیں۔
AGN (Active Galactic Nucleus) — جو وقتاً فوقتاً چمک میں اتار چڑھاؤ دکھاتا ہے، اس کے کھانے (یعنی مٹیریل کے بہاؤ) میں تبدیلی کی وجہ سے۔


ہر واقعہ کا اپنا ایک مخصوص انداز ہوتا ہے۔گراہم اور ان کی ٹیم نے J2245+3743 سے آنے والی روشنی کا تجزیہ کیا اور نتیجہ نکالا کہ یہ ایک TDE تھا، جس میں سورج سے تقریباً 30 گنا بڑا ستارہ بلیک ہول کے بہت قریب آ گیا تھا۔
بلیک ہول کے طاقتور کششِ ثقل نے اسے چیر پھاڑ دیا، اور اس کا ملبہ ایک گرد و غبار کے قرص (disk) میں بدل گیا جو مرکزی بلیک ہول کے گرد گردش کر رہا ہے۔

ماہرِ فلکیات سٹی یونیورسٹی آف نیویارک کے ای ساویک فورڈ( K. E. Saavik Ford) کے مطابق“ایسے بڑے ستارے بہت نایاب ہیں، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ AGN کے گرد موجود ڈِسک میں موجود ستارے مٹیریل جذب کر کے مزید بڑے ہو سکتے ہیں۔”

وقت کے ساتھ بلیک ہول اس تباہ شدہ ستارے کو بتدریج نگل رہا ہے، اور اس وقت بھی وہ اپنی سابقہ روشنی سے دو درجے زیادہ روشن ہے۔


سائنس دانوں کا خیال ہے کہ بلیک ہول تب اپنی اصل حالت میں لوٹے گا جب وہ ستارے کا ہر ذرہ اپنے ایونٹ ہورائزن کے پار کھینچ لے گا۔

سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ J2245+3743 ہماری نظر میں 6 سال سے زیادہ عرصے سے روشن ہے، لیکن حقیقت میں یہ واقعہ وہاں کافی کم وقت میں پیش آیا تھا۔
ہم اسے سست رفتار (slow motion) میں دیکھ رہے ہیں، کیونکہ کائنات کے پھیلاؤ سے وقت خود بھی کھنچ جاتا ہے۔

گراہم کا کہنا ہے کہ “یہ مظہر کاسمولوجیکل ٹائم ڈیلیشن کہلاتا ہے۔ جیسے جیسے روشنی پھیلتی ہوئی خلا سے گزرتی ہے، اس کی طولِ موج بڑھتی ہے اور وقت بھی پھیل جاتا ہے۔
7سال ہمارے لیے وہاں صرف 2 سال کے برابر ہیں — ہم اس واقعے کو چوتھائی رفتار پر دیکھ رہے ہیں۔”

وقت کی اس تاخیر کو مدِنظر رکھنا بہت اہم ہے، کیونکہ اس سے سائنس دانوں کو TDEs کے درست ماڈل بنانے میں مدد ملتی ہے — یعنی یہ سمجھنے میں کہ یہ واقعات حقیقت میں کتنی دیر تک جاری رہتے ہیں۔

یہ معلومات ماہرین کو ان جیسے مزید واقعات تلاش کرنے میں مدد دے سکتی ہیں جو شاید پہلے سے ڈیٹا آرکائیوز میں پوشیدہ ہوں یا غلطی سے کسی اور قسم کے واقعے کے طور پر درج کیے گئے ہوں۔
محققین کا کہنا ہے کہ اگر ان پر دوبارہ غور کیا جائے تو مزید ایسے خفیہ TDEs سامنے آ سکتے ہیں۔

یہ تحقیق Nature Astronomy میں شائع ہوئی ہے۔

Watch Live Public News