ویب ڈیسک: وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف اپنے نظریات سے دستبردار ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نظریات کو عملی شکل دینے میں وقت کا فرق ضرور آ سکتا ہے لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ نواز شریف نے اپنے سیاسی موقف یا اصولوں سے لاتعلقی اختیار کر لی ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ اگر نواز شریف کو پانچ سال پورا مدتِ حکومت گزارنے کا موقع ملتا تو آج ملک کے حالات بالکل مختلف ہوتے۔ ان کے دور میں معیشت کے بیشتر اشاریے درست سمت میں جا رہے تھے اور ملک ترقی کے راستے پر گامزن تھا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ موجودہ وقت میں ہماری توجہ پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے، ملک میں سیاسی استحکام پیدا کرنے اور ایک مؤثر خارجہ پالیسی پر مرکوز ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے ملکی سمت کا تعین کر لیا ہے اور اب ہمیں اسی راستے پر بڑھنا ہے۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ان کی رائے یا گفتگو سے وزیراعظم شہباز شریف کو کوئی مسئلہ نہیں ہے، کیونکہ پارٹی کے اندر اختلاف رائے کو ہمیشہ مثبت انداز میں دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے مریم نواز کے حوالے سے کہا کہ وہ ان کے لیے بیٹی کی حیثیت رکھتی ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے روشن مستقبل کی علامت ہیں۔ مریم نواز بطور وزیراعلیٰ پنجاب مؤثر کارکردگی دکھا رہی ہیں اور عوامی سطح پر انہیں پذیرائی بھی حاصل ہو رہی ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی ہے اور جماعت کے اندر اتحاد و یکجہتی موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی آنے والے دنوں میں زیادہ مؤثر انداز میں ملکی سیاست میں اپنا کردار ادا کرے گی۔