ہمارےعہدیداران کوہٹایاجارہاہے،حکومت سے بات چیت کیسے ہوسکتی ہے؟بیرسٹرگوہر

ہمارےعہدیداران کوہٹایاجارہاہے،حکومت سے بات چیت کیسے ہوسکتی ہے؟بیرسٹرگوہر
کیپشن: ہمارےعہدیداران کوہٹایاجارہاہے،حکومت سے بات چیت کیسے ہوسکتی ہے؟بیرسٹرگوہر

ویب ڈیسک: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ جب ہمارے عہدیداران کو عہدوں سے ہٹایا جا رہا ہے تو ایسے میں حکومت کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت کیسے ممکن ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بات پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پاک فوج نے ملک کے دفاع کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور حالیہ جنگ میں کامیابی بھی حاصل کی ہے، ہم ان قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہر کسی کی مدتِ ملازمت کا تعین آئین کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے نہ تو اس قانون سازی کو چیلنج کیا ہے اور نہ ہی ایسا کوئی ارادہ رکھتے ہیں۔ جہاں تک 2030 تک پلان کی بات ہے تو پلان سب بناتے ہیں، دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے ملک میں جاری سیلابی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت سیاست یا صوبائی تقسیم کا نہیں بلکہ سب کو مل کر متاثرین کی مدد کرنی چاہیے۔ انہوں نے پنجاب حکومت کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب زدگان کی مدد کے لیے یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھا جائے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا کی حکومت سیلاب متاثرین کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے اور وہ خود بھی پیر سے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کریں گے، سب سے پہلے بونیر میں متاثرین کے ساتھ ملاقات کریں گے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن لیڈرز کو عہدوں سے ہٹایا جا رہا ہے اور ہمارے کئی اراکین کو نااہل قرار دیا جا رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں مذاکرات کا عمل آگے بڑھانا ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت سنجیدگی سے بات چیت چاہتی ہے تو سیاسی انتقام اور یکطرفہ اقدامات بند کرنا ہوں گے، ورنہ یہ سب صرف وقت ضائع کرنے کے مترادف ہوگا۔

Watch Live Public News