(ویب ڈیسک ) چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ ریلیف کے مرحلے میں وزیراعظم اور صوبائی حکومت سے اپیل کریں گے کہ زرعی ایمر جنسی لگائی جائے۔
بلاول بھٹو نے قصور میں سیلاب متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے جو قصور میں ریلیف کیمپ قائم کیا گیا وہاں کاوزٹ کیا ہے، پنجاب میں سیلاب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔میڈیا سے جو دکھایا جارہا تھا اس سے اندازہ ہورہا تھالیکن اب میں سمجھتا ہوں بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو بھی سب سے زیادہ رول ادا کرنا چاہیے،پچھلی حکومت میں بھی جب سیلاب آیا تھا اس وقت بھی امداد کی گئی تھی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز بہت محنت کررہی ہے یہ ماننا چاہیے،قدرتی آفت کے وقت جو لوگ زیادہ محنت کرتے ہیں ان پر زیادہ تنقید ہوتی ہے۔
چیئرمین پی پی نے کہا کہ میں نے اپنی جماعت کو ہدا یت کی ہے کہ پنجاب میں ریلیف کے لیے زیادہ کام کرنا ہے۔یہ تنہا صوبائی حکومت کے بس کی بات نہیں ہے کہ وہ اکیلی اس آفت کا مقابلہ کرسکے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سے درخواست ہے بے نظیر انکم سپورٹ کے زریعے زیادہ سے زیادہ سیلاب متاثرین کی امداد کی جائے،پنجاب میں کسان کا زیادہ نقصان ہوا ہے زرعی نقصان ہوا ہے، ریلیف کے مرحلے میں وزیراعظم اور صوبائی حکومت سے اپیل کریں گے کہ زرعی ایمر جنسی لگائی جائے، زرعی ایمر جنسی میں بیج ،کھاد میں کسانوں کی مدد کی جائے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ آپکے مطالبات وزیراعظم سے درخواست کروں گا قرض اور بجلی کی مد میں متاثرین کی مدد کریں،
امید کرتا ہوں وزیراعظم ضرور کسانوںکی مدد کریں گے۔ گھروں اور کاروبار کے نقصان کا تخمینہ لگایا جائے،وفاقی حکومت کی سپورٹ سے ہم سندھ میں 20 لاکھ گھر بنا رہے ہیں ۔
چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ یہ سیلاب بھارت سے آنے والے دریا سے آیا ہے،سندھ طاس معاہدہ موجود ہے مودی سرکار نے اعلان کیا کہ سندھ طاس معاہدے کو نہیں مانتے،سندھ طاس کے تحت دریاؤں کے بہاؤ کا ڈیٹا شئیر کیا جاتا ہے،اس دفعہ بھارت انسانیت کو بھی بھول گیااور انفارمیشن پاکستان سے شئیر نہیں کی،آخری وقت میں بتایا کہ ہم پانی چھوڑ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم عالمی سطح پر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کو اجاگر کریں گے،یا آپکو سندھ طاس معاہدہ ماننا ہوگا یا ہمارے دریا واپس کرنے ہونگے۔