جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط ، 6 اہم سوال پوچھے لئے

جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط ، 6 اہم سوال پوچھے لئے

ویب ڈیسک: سپریم کورٹ کے فل کورٹ اجلاس سے پہلے جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط، فل کورٹ اجلاس پر جسٹس منصور علی شاہ نے چھ سوالات پوچھ لئے۔

تفصیلات کےمطابق  جسٹس منصور نے خط میں سوال کیا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی نے کبھی اپنے قانونی اختیارات استعمال کیوں نہ کیے؟ 

1980 رولز میں ترمیم فل کورٹ بحث کے بجائے سرکولیشن سے کیوں منظور ہوئی؟ 

 اختلافی نوٹ پالیسی پر اوپن ڈسکشن کے بجائے ججز سے انفرادی رائے کیوں لی گئی؟ 

 ججز کی چھٹیوں پر کنٹرول کرنے والا جنرل اسٹینڈنگ آرڈر کیوں جاری ہوا؟

 26ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کرنے والی درخواستیں فل کورٹ کے سامنے کیوں نہ لگیں؟ 

 کیا عدالت آزاد ججز کی ہے یا ایک منظم فورس میں بدلی جا رہی ہے؟

 جسٹس منصور نے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ   فل کورٹ اجلاس کو ادارہ جاتی تجدید کا موقع بنائیں۔

خط کے متن میں کہا گیا کہ 8 ستمبر کو جوڈیشل کانفرنس میں عوامی سطح پر 6 سوالات کے جواب دیں، چیف جسٹس صاحب آپ کے بعد موسٹ سینئر جج ہونے کے ناطے ادارے کی ڈیوٹی کیلئے خط لکھ رہا ہوں،میں نے آپکو متعدد خطوط لکھے لیکن آپکی طرف سے نہ تحریری نہ ہی زبانی جواب ملا۔

جسٹس منصور شاہ کا خط میں کہنا تھا کہ عوامی سطح پر آپ کا جواب ججز اور عوام کو اعتماد دے گا، آپ کا جواب یقین دلائے گا آپ کی ریفارمز شفاف اور آئین کے مطابق ہیں، یہ نہ سمجھیں یہ کوئی ذاتی متاثرہ یا رنجیدہ شخص کا خط ہے۔ 

آپ کے دور میں سب سے زیادہ 3956مقدمات میں نے نمٹائے، آپ کے دور میں 35 رپورٹٹد فیصلے تحریر کر چکا ہوں،اکتوبر 2024 سے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کی ایک بھی باضابطہ میٹنگ نہیں ہوئی،بنچز بغیر مشاورت کے تشکیل دیئے جا رہے ہیں، میں ایک ذمہ دار کے طور پر آپ کو خط لکھ رہا ہوں۔

یکطرفہ طور پر بینچز کی تشکیل اور کاز لسٹ جاری ہورہی ہے،ججز روسٹر بغیر مشاورت کے دستخط کیلئے بھیجے جاتے ہیں،سینئر ججز کو دو رکنی جبکہ جونئیر ججز کو تین رکنی بینچز  کیوں دئیے جا رہے ہیں، قومی اہمیت کے مقدمات سینئر ججز کے سامنے کیوں مقرر نہیں کئے جا رہے ؟ سینئر ججز کارکردگی کی بجائے  انہیں کنٹرول کرنے کیلئے سائیڈ لائن کئے جارہے ہیں۔

Watch Live Public News