ویب ڈیسک: (علی زیدی) ایران میں شدت پسند تنظیم داعش سے تعلق رکھنے والے ایک اہم رکن کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق مہدی اصغر زادہ ولد عبد الکریم، جو مبینہ طور پر شام اور عراق میں عسکری تربیت حاصل کر چکا تھا، کو آج صبح تختۂ دار پر لٹکایا گیا۔
حکام کے مطابق اصغر زادہ نے سرحد پار دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں حصہ لیا اور ایران کے اندر بھی حملوں کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اُسے خفیہ نگرانی کے بعد گرفتار کیا اور اس کے قبضے سے چند حساس دستاویزات، مواصلاتی آلات اور اسلحہ برآمد ہونے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔
مقدمے کی سماعت ایران کی خصوصی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں ہوئی، جہاں تمام شواہد اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں ملزم کو مجرم قرار دیا گیا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ اصغر زادہ کی سرگرمیاں قومی سلامتی اور عوامی جان و مال کے لیے براہ راست خطرہ تھیں، لہٰذا اُسے موت کی سزا سنائی گئی۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے بھی ماتحت عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
عدالتی فیصلے کی توثیق کے بعد آج صبح سرکاری طور پر سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا۔ ایرانی حکام نے کہا ہے کہ وہ ایسی تخریبی سرگرمیوں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے اور ملک میں دہشت گردی یا بدامنی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
تسنیم نیوز کے مطابق، ایرانی عوام اور سرکاری حلقوں نے عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے قومی سلامتی کے لیے اہم قدم قرار دیا ہے۔