ویب ڈیسک: جمعیت علمائے اسلام ف نے حکومت کو8 دسمبر تک کی ڈیڈ لائن دے دی اور کہا بل منظور نہ کیا گیا تو اسلام آباد کا رخ کریں گے جبکہ شہباز شریف نے جے یو آئی سربراہ مولانافضل لرحمان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور بل پر تمام تحفظات کو دور کرنے کی یقین دہانی کروائی ۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور جے یو آئی سربراہ مولانافضل لرحمان صاحب کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔اسلم غوری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے وزیر اعظم کو مدارس رجسٹریشن بل پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔وزیر اعظم نے بل پر تمام تحفظات کو دور کرنے کی یقین دہانی کروائی ۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت متفقہ بل کو متنازع بنانے سے گریز کرے ۔ہم اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور مدارس کی آزادی اور حریت پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔
قبل ازیں جمعیت علماء اسلام کے مرکزی جنرل سیکریٹری مولانا عبد الغفور حیدری نے بیان میں کہا ہے کہ حکومت کو دینی مدارس کا بل منظور کرناہو گا، 8 دسمبر تک بل منظور نہ کیا گیا تو اسلام آباد کا رخ کریں گے۔
عبد الغفور حیدری کا کہنا تھا کہ ہم مذہبی لوگ ہیں نہیں چاہتےاسلام آبادکی طرف مارچ کیا جائے، ملک بھی اس چیز کا متحمل نہیں ہے، بل منظور کر کے روکا گیایہ بدنیتی ہے۔
جے یو آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری نے کہا کہ یقین دہانی کرائی ہےکہ مسئلے کا حل نکل آئے گا، بلاول نےیقین دہانی کرائی صدرسےبات کرکےبل منظور کرائیں گے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ8 دسمبر تک بل پر دستخط نہ ہوئے تو اسلام آباد کی طرف رخ کر سکتے ہیں۔یہ جمعیت اسلام اور وفاق المدارس کابل نہیں بلکہ کے تمام تنظیمات مدارس کا ہے،یہ ان کا بل ہےجو سیاسی جماعتیں مذہبی تنظیموں کی صدارت کر رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی تبدیلی کا علم نہیں ، ہم اس الیکشن کو نہیں مانتے اب تبدیلی کیلئےیو ٹرن کیسے لیں گے۔
دوسری جانب جے یو آئی کے رہنما حافظ حمداللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ صدر پاکستان نے مدارس رجسٹریشن بل مسترد کرکے طبل جنگ بجادیا، بل مسترد کرنا پارلیمنٹ، جمہوریت اور آئین کے چہرے پر زور دار طمانچہ ہے۔
حافظ حمداللہ نے سوال کیا کیا اسی کو’’جمہوریت زبردست انتقام ہے‘‘کہا جاتا ہے؟ کیا صدر پاکستان مسلم لیگی حکومت کے لئے مشکلات پیدا کر رہےہیں؟ مدارس بل مسترد کرکے والد نے بیٹے کو بھی لال جھنڈا دکھادیا۔
ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اور بلاول بھٹو بھی بل مسترد کرنے کے ذمہ دارہیں، محسوس ہورہا ہے، صدر کے ہاتھوں بنا وزیراعظم آؤٹ اور بیٹے کو اِن کیا جا رہا ہے۔