ویب ڈیسک: امریکا سے ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں جکڑے 104 بھارتیوں کی بے دخلی کیخلاف کانگریس، سماج وادی پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ میں احتجاج کیا۔
اپوزیشن کے رہنماؤں نے اس اقدام کو ہندوستانیوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک قرار دیتے ہوئے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس دوران انڈیا اتحاد کے متعدد ارکان پارلیمنٹ نے علامتی طور پر خود کو زنجیروں میں باندھا ہوا تھا۔
کانگریس کے تنظیمی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال، سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے احتجاج کے دوران اپنے ہاتھوں میں زنجیر پہن رکھی تھیں۔ اس موقع پر اپوزیشن رہنماؤں نے ’ملک کی توہین برداشت نہیں کریں گے‘ اور ’مودی سرکار ہائے ہائے‘ کے نعرے لگائے۔
اپوزیشن کے مطابق امریکا سے بے دخل ہندوستانیوں کو ہتھکڑیاں بیڑیاں لگا کر بھیجا گیا، جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے کہا کہ حکومت بھارتیوں کو ’’وشو گرو‘‘ کا خواب دکھا رہی تھی، لیکن اب جب امریکا نے انہیں قیدیوں کی طرح ہتھکڑیاں لگا کر ملک واپس بھیجا تو حکومت خاموش ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر ہندوستانی شہریوں کو وطن چھوڑنے پر مجبور کیوں ہونا پڑا؟
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے، کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی، اکھلیش یادو اور دیگر کئی اپوزیشن رہنما احتجاج میں شریک ہوئے۔
بعد ازاں بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے راجیہ سبھا میں امریکا سے ہندوستانیوں کی ملک بدری کے بارے میں ایک بیان دیا۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے رول 251 کے تحت بیان دیا۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی امریکی قوانین کے تحت کی گئی ہے۔ اس طرح کی کارروائی پہلے بھی کی گئی ہے۔ یہ کوئی نیا عمل نہیں ہے۔
وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے 2009 سے امریکا سے ملک بدر کیے گئے غیر قانونی بھارتی تارکین وطن کی تعداد بھی بتائی۔ بعد میں اپوزیشن کے احتجاج کےپیش نظر لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے اجلاس ملتوی کردیئے گئے۔
دوسری جانب امریکی بارڈر سیکیورٹی فورسز کے چیف مائیکل ڈبلیو بینکس نے سماجی رابطوں کی سائٹ ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کی ہے۔ جس میں بھارتی شہریوں کو ہتھکڑیوں میں جکڑے امریکی فوجی طیارے میں سوار ہوتے دکھایا گیا ہے۔

اس ویڈیو کے ساتھ امریکی چیف نے لکھا ہے کہ آخرکار امریکا غیرقانونی بھارتی ایلینز کو کامیابی سے نکالنے میں کامیاب ہوگیا۔ جنہیں دور ان کے ملک میں فوجی طیارے میں بھیج دیا گیا۔ ہمارا مقصد امیگریشن قوانین کی بالادستی ہے۔