ویب ڈیسک : حماس نے اسرائیل کے رہا کئے جانیوالے 34 یرغمالیوں کی فہرست جاری کردی ۔متعدد بیمار ہیں۔
حماس کے ایک سینئر عہدیدار نے بی بی سی کے ساتھ 34 یرغمالیوں کی فہرست جاری کی ہے جن کے بارے میں فلسطینی گروپ کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں رہائی کے لیے تیار ہیں۔ یہ واضح نہیں ہے کہ کتنے یرغمالی اب تک زندہ ہیں۔
حماس کی جانب سے سامنے آنے والی یرغمالیوں کی جو فہرست سامنے آئی ہے اُن میں 10 خواتین اور 11 عمر رسیدہ مرد یرغمالی بھی شامل ہیں جن کی عمریں 50 سے 85 سال کے درمیان ہیں۔
حماس کا کہنا ہے کہ متعدد ایسے یرغمالیوں کے نام بھی اس فہرست میں شامل ہیں کہ جو بیمار ہیں۔
حماس کے زیرِ انتظام غزہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق گزشتہ ہفتے کے اختتام پر اسرائیلی فضائی حملوں میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ حماس نے اسرائیل کو یرغمالیوں کی کوئی فہرست فراہم کی ہے۔
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہفتے کے اختتام پر جنگ بندی کے مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے لیکن مذاکرات میں اب تک کوئی خاص پیش رفت ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ حماس کے ایک اہلکار نے میڈیاکو بتایا کہ اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی کے لیے کسی بھی معاہدے کا انحصار غزہ سے اسرائیلی انخلاء اور مستقل جنگ بندی یا جنگ کے خاتمے کے معاہدے پر ہوگا۔
اس سے قبل حماس نے 19 سالہ اسرائیلی یرغمال لیری الباغ کی ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں نتن یاہو حکومت سے معاہدے پر پہنچنے کے لیے کہا گیا تھا۔
انھیں 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے دوران غزہ کی سرحد پر نہال اوز فوجی اڈے پر چھ خواتین کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔
اس دن حماس کے عسکریت پسندوں نے جنوبی اسرائیل پر حملہ کر کے تقریباً 1200 افراد کو ہلاک اور 251 کو یرغمال بنا لیا تھا۔
غزہ کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق حماس کے خلاف اسرائیلی افواج کی جوابی کارروائیوں میں اب تک غزہ میں کم از کم 45,805 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔