اطالوی خاتون وزیراعظم کی امریکا کے نومنتخب صدر ٹرمپ سے ملاقات

اطالوی خاتون وزیراعظم کی امریکا کے نومنتخب صدر ٹرمپ سے ملاقات

ویب ڈیسک :اطالوی وزیر اعظم جورجیا میلونی نے اپنے ایک غیراعلانیہ دورے کے دوران ریاست فلوریڈا کے مارا لاگو میں نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے غیر رسمی طور ملاقات کی۔

انتہائی دائیں بازو کی جماعت سے تعلق رکھنے والیاطالوی وزیر اعظم میلونی کے دفتر کی طرف سے اتوار پانچ جنوری کی صبح جاری کردہ تصاویر میں میلونی اور ڈونلڈ ٹرمپ کو مارا لاگو کے داخلی دروازے پر ایک ساتھ تصویر بنواتے دکھایا گیا ہے، جب کہ ایک اور تصویر میں وہ ایک استقبالیہ کمرے میں بات کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ تاہم اطالوی وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے اس ملاقات کی نہ تو کوئی تفصیل بتائی گئی ہے اور نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ یہ ملاقات کب ہوئی۔

واضح رہے کہ بیس جنوری کو اپنےدوسرے غیرمسلسل دورصدارت کے لیے حلف اٹھانے والے ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرنے والوں میں ہنگری کے وزیر اعظم وکٹور اوربان اور کینیڈین وزیر اعظم  جسٹن ٹروڈو بھی شامل ہیں۔

انتہائی دائیں بازو کی برادرز آف اٹلی نامی پارٹی کی رہنما میلونی کی یہ ملاقات امریکی صدر جو بائیڈن کے روم کے چار روزہ دورے سے پہلے ہوئی ہے، جہاں ان سے میلونی اور پوپ فرانسس کی علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں متوقع ہیں۔

 رپورٹس کے مطابق مسٹر ٹرمپ نے مار-اے-لاگو  میں ان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا:  یہ بہت پرجوش ہے۔ میں یہاں ایک شاندار خاتون کے ساتھ ہوں، اٹلی کی وزیر اعظم کے ساتھ۔

 یادرہے اطالوی وزیراعظم  میلونی کو درپیش سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک اطالوی صحافی سیسیلیا سالا کی 19 دسمبر کو ایران میں گرفتاری ہے۔

سیسلیا سالا کو ایک ایرانی تاجر محمد عابدینی کو میلان کے مالپینسا ہوائی اڈے پر مبینہ طور پر ڈرون کے پرزے فراہم کرنے کے الزام میں گرفتاری کے تین دن بعد پکڑ لیا گیا  تھا۔

Watch Live Public News