ویب ڈیسک: لاہور میں غیر ملکی خواتین کے اغوا اور اجتماعی زیادتی کے کیس میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایک غیر ملکی خاتون سے مبینہ زیادتی کرنے والے 3 ملزمان کا ڈی این اے میچ کرگیا۔ جن ملزمان کے ڈی این اے میچ ہوئے ان میں ملزم نواز کا نام سرفہرست ہے۔ ملزم نواز نے سب سے پہلےغیر ملکی خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر اُس نے دیگر ملزمان کو بھی زیادتی کرنے پر اُکسایا۔
خیال رہے کہ پولیس نے 8 ملزمان کے ڈی این اے سیمپل کراس میچ کیلئے فارنزک لیبارٹری بھجوائے تھے جبکہ باقی ملزمان کے ڈی این اے سیمپلز کا مزید تجزیہ کیا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ متاثرہ خواتین میں سے ایک کی میڈیکل رپورٹ میں جنسی زیادتی کے شواہد سامنے آئے تھے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق گرفتار ملزمان میں سے تین افراد پر خاتون سے زیادتی کا الزام ہے۔
تحقیقات کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر متاثرہ خواتین سے ان کے ڈیجیٹل والٹ میں 19 ہزار امریکی ڈالر منتقل کروائے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خواتین نے ملزمان کے ساتھ کرپٹو کرنسی میں 4 سے 5 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کر رکھی تھی، جس کے بعد ملزمان، جن میں رضا ڈار بھی شامل ہے، رقم کی واپسی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا نے کہا کہ ملزمان کے ساتھ کسی قسم کا خصوصی سلوک نہیں کیا جا رہا۔ ان کے بقول ملزمان کو عام ملزمان کی طرح حوالات میں رکھا گیا، ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا، اور کیس کی تفتیش مکمل میرٹ اور شفافیت کے ساتھ جاری ہے۔