ویب ڈیسک : امریکا کے پہلی بار حماس سے براہ راست مذاکرات،،آپکا وقت ختم،،تمام اسرائیلی یرغمالوں کو رہا کردیں، ٹرمپ کا الٹی میٹم۔۔۔ غزہ میں امن کیلئے ’’ وٹکوف پروپوزل ’’ پیش کردیا گیا، نئے اسرائیلی آرمی چیف کی فلسطین اور ایران کو دھمکی۔۔’2025 جنگ کا سال ہے’۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کی قید سے رہا ہونیوالے یرغمالوں سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی ہے۔

سابق یرغمالوں کے ساتھ اپنی ملاقات کے فوراً بعد، ٹرمپ نے اپنا ا الٹی میٹم پوسٹ کیا، جس کی شروعات اس کے ساتھ کی گئی، "'شالوم حماس' جس کا مطلب ہے ہیلو اور الوداع - آپ انتخاب کر سکتے ہیں۔"
ٹرمپ نے مزید کہا، ’’میں ابھی آپ کے سابقہ یرغمالیوں سے ملا ہوں جن کی زندگیاں آپ نے تباہ کر دی ہیں۔‘‘ یہ آپ کی آخری وارننگ ہے! قیادت کے لیے، اب غزہ سے نکلنے کا وقت ہے، جب کہ آپ کے پاس ابھی بھی موقع ہےٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا، ’’میں اسرائیل کو ہر وہ چیز بھیج رہا ہوں جس کی اسے کام ختم کرنے کی ضرورت ہے، حماس کا ایک بھی رکن محفوظ نہیں رہے گا اگر آپ ایسا نہیں کریں گے جیسا کہ میں کہتا ہوں‘‘۔
یادرہے پچھلے مہینے ٹرمپ نے حماس سے 15 فروری تک یرغمالوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا تھا یا " جہنم ٹوٹنے والا ہے۔" وہ ڈیڈ لائن آئی اور چلی گئی۔ اس بار، ٹرمپ اپنے الٹی میٹم کو "آخری وارننگ" کے طور پر بیان کیا ہے۔
"غزہ کے لوگوں کے لیے: ایک خوبصورت مستقبل کا انتظار ہے، لیکن اگر آپ نے یرغمال نہ چھوڑے تو نہیں۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو آپ مر چکے ہیں!" ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا سائٹ ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا۔
حماس سے براہ راست مذاکرات سے پہلے اسرائیل کو اعتماد میں لیا گیا ، وائٹ ہاؤس
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے تصدیق کی کہ انتظامیہ نے حماس کے حکام کے ساتھ براہ راست بات چیت کی ہے، جو کہ ممکنہ طور پر اسرائیل کو نظرانداز کرتے ہوئے بقیہ امریکی یرغمالیوں کی رہائی کو محفوظ بنانے کی کوششوں میں ہے۔
لیویٹ نے کہا کہ اسرائیل سے مشورہ کیا گیا تھا ۔
لیوٹ نے کہا، " صدر ( ٹرمپ) نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ امریکی عوام کے مفاد میں دنیا بھر میں لوگوں سے ڈائیلاگ کرنا اور ان سے بات چیت کرنا نیک نیتی پر مبنی کوشش ہے تاکہ وہ کام کیا جائے جو امریکی عوام کے لیے درست ہو۔"
حماس سے مذاکرات ٹرمپ کے خصوصی ایلچی ایڈم بوہلر نے کئے
ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق حماس سے بات چیت میں تمام بقیہ قیدیوں کی رہائی اور طویل مدتی جنگ بندی تک پہنچنے کے وسیع معاہدے پر گفتگو بھی شامل ہے۔
لیکن ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس بات کا تعلق امریکی جانوں سے بھی ہے۔
امریکہ کی طرف سے حماس کے ساتھ بات چیت کی قیادت یرغمالوں سے متعلق صدر ٹرمپ کے نامزد ایلچی ایڈم بوہلر نے کی۔
یہ براہ راست گفت وشنید ایسے وقت ہوئی ہے جب اسرائیل اور حماس کےدرمیان جنگ بندی بے یقینی صورتحال کا شکار ہے۔
جنگ بندی کا ’’ وٹ کوف پروپوزل’’ کیا ہے؟
اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ جنگ بندی کی نئی تجویز امریکہ کے مشرق وسطی کے ایلچی اسٹیو وٹکاف کی تیارہ کردہ ہیں۔
مجوزہ معاہدے کے تحت عسکریت پسند تنظیم حماس کو جنگ بندی میں توسیع اور مستقل امن پر مذاکرات کے بدلے میں نصف یرغمالوں کو رہا کرنا ہوگا۔
اس ہفتے اسرائیل نے امریکہ کی طرف سے جنگ بندی کا نیا منصوبہ پیش کیا جو گزشتہ جنوری میں طے پانے والے معاہدے سے مختلف ہے۔ اسرائیل غزہ کا محاصرہ کر کے حماس کو اس نئے منصوبے کو قبول کرنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔ نیتن یاہو نے اس منصوبے کو " وٹ کوف پروپوزل" قرار دیتے ہوئے بتایا کہ یہ منصوبہ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی سٹیو وٹ کوف کی طرف سے آیا ہے۔ لیکن وائٹ ہاؤس نے ابھی تک اس کی تصدیق نہیں کی اور صرف اس بات کا اشارہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی کسی بھی کارروائی کی حمایت کرتا ہے۔

نئے منصوبے کے تحت مستقل جنگ بندی کے لیے بات چیت کے بدلے میں اسرائیل حماس سے جنگ بندی میں توسیع اور اور اپنے باقی یرغمالیوں میں سے نصف کو رہا کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اسرائیلی یرغمالی اس وقت حماس کا سب سے اہم مذاکراتی کارڈ ہے۔ اس دوران اسرائیل نے مزید فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا عندیہ نہیں دیا جو معاہدے کے پہلے مرحلے کا لازمی حصہ تھی۔
1997 کے بعد حماس امریکا کے پہلی دفعہ براہ راست مذاکرات
یہ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے 1997 میں حماس کو ایک غیر ملکی دہشت گرد گروپ نامزد کیے جانےکے بعد سے امریکہ اور حماس کے درمیان پہلی براہ راست بات چیت ہے ۔
خیال رہے کہ اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ حماس، جس نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے کے دوران کئی افراد کو یرغمال بنا لیا تھا، اب بھی 24 مغویوں کو اسیر رکھے ہوئے ہے جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ زندہ ہیں۔
ان زندہ یرغمالوں میں امریکی شہری ایڈن الیگزینڈر بھی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ خیال کیا جاتا ہے کہ حماس کے قبضے میں 35 یرغمالوں کی لاشیں بھی ہیں۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کے دہشت گرد حملے میں تقریباً 1200 لوگ ہلاک ہوئے تھے جب کہ جنگجو 250 کے قریب افراد کو یرغمال بنا کر اپنے ساتھ غزہ لے گئے۔
امریکہ اور بعض مغربی ملکوں نے حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہوا ہے۔
ادھر حماس کے زیر اہتمام غزہ کے صحت کے حکام کےمطابق اسرائیلی حملوں میں 48 ہزار فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔
2025 غزہ اور ایران کیخلاف جنگ کا سال ، نئے اسرائیلی آرمی چیف کا بیان

IDF چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے ہائی کمان کو بتایا کہ 2025 غزہ اور ایران پر مرکوز جنگ کا سال ہوگا، جس میں دیگر محاذوں پر بھی توجہ دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ حماس کو شکست دینے کا مشن ابھی نا مکمل ہے۔
تل ابیب میں منعقدہ حلف برداری تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ "یہ کسی دوسری ریاست کی طرح ریاست نہیں ہے، بلکہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔ حماس کو شدید دھچکا لگا ہے، لیکن اسے ابھی تک شکست نہیں ہوئی۔ حماس کے خلاف ہمارامشن ابھی مکمل نہیں ہوا ہے"۔
انہوں نے کہا کہ "یہ بقا کی جنگ ہے اور ہم اپنے قیدیوں کی بازیابی اور فتح حاصل کرنے کے لیے اپنی مہم جاری رکھیں گے"۔