ویب ڈیسک: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کےوفد کے آئندہ دورے سے قبل، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 2025-26 کے بجٹ کے لیے اہم تجاویز کو حتمی شکل دے دی ہے، جن میں پنشنرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے اور تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق، ایف بی آر کی جانب سے ایک تجویز میں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین، جنہیں ماہانہ 1 لاکھ روپے یا اس سے زائد پنشن حاصل ہوتی ہے، کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس پر ممکنہ طور پر 2 سے 5 فیصد تک ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، یہ تجویز ابھی حتمی نہیں اور آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے بعد اس کا فیصلہ متوقع ہے۔
دوسری جانب ایف بی آر تنخواہ دار طبقے کے لیے سالانہ قابل ٹیکس آمدن کی حد کو 6 لاکھ روپے سے بڑھا کر 10 یا 12 لاکھ روپے کرنے پر بھی غور کر رہا ہے۔ درمیانی آمدنی والے افراد پر ٹیکس کی شرح میں 5 سے 10 فیصد تک کمی کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
اعلیٰ آمدنی والے افراد، جن کی ماہانہ تنخواہ ایک کروڑ روپے سے زائد ہے، پر عائد 10 فیصد سرچارج ختم کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں، "سپر ٹیکس" کو بھی معقول حد میں لانے پر بات چیت جاری ہے۔
آئی ایم ایف کا مشن 16 مئی کو پاکستان کا دورہ کرے گا، جہاں وہ پاکستانی حکام کے ساتھ آئندہ بجٹ میں ٹیکس اور نان ٹیکس اہداف، اخراجات، مالی خسارے اور بنیادی سرپلس جیسے اہم نکات پر بات چیت کرے گا۔
ادھر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں مختلف تجارتی تنظیموں کے نمائندگان نے آئندہ بجٹ سے متعلق اپنی تجاویز پیش کیں۔