(ویب ڈیسک ) چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کا کہنا ہے کہ میں ایک ہائیکورٹ سے دوسرے ہائیکورٹ میں ججز ٹرانسفر کو سپورٹ کرتا ہوں، مگر میری رائے میں ٹرانسفر ہونے والے ججز سینیٹارٹی میں سب سے نیچے ہونگے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے سپریم کورٹ رپورٹرز نے ملاقات کی ۔ اس موقع پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ چین اور ترکیہ کے دورے کے حوالے سے آپکو بریفنگ دوں گا، چین کے دور پر معلوم ہوا انکی سپریم کورٹ میں 367 ججز ہیں،انکی سپریم کورٹ میں کوئی مقدمہ زیرالتواء نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے زیرالتواء مقدمات سن کر چین کے ججز حیران رہ گئے، چین کے ججز نے پوچھا اتنے زیرالتواء مقدمات کیسے نمٹائیں گے، چین کے ججز کو کہا مقدمات نمٹانے کیلئے ہی تو آپ کے پاس آئے ہیں، مقدمات نمٹانے کیلئے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ چین کے عدالتی نظام میں بھی ہماری طرح چار فورمز ہیں،اس وزٹ پر ایران کے چیف جسٹس سے بھی ملاقات ہوئی، چین نے مقدمات نمٹانے کیلئے پاکستان کی معاونت کرنے کی حامی بھری ہے، چین کی عدلیہ کےساتھ باہمی تعاون کا معاہدہ بھی کیا گیا ہے،۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ سال ایس سی او عدالتی کانفرنس ایران میں ہوگی،آذربائیجان، ترکی اور بھارت کے چیف جسٹسز سے بھی ملاقات ہوئی، سیکرٹری آئی ٹی سے بھی ملاقات ہوئی ہے، تمام وسائل بروئے کار لائیں گے، ٹیکنالوجی کیلئے اگر وسائل کی ضرورت پڑی تو ڈونرز سے بھی رجوع کیا جائے گا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کو باور کرانا چاہتا ہوں کہ ٹیکنالوجی کے استعمال سے اپنا ہی فائدہ ہے،کچھ ججز کا موقف ہے کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال نہیں کرنا چاہیے، لوگوں کو ڈر ہے کہ مصنوعی ذہانت آئی تو ججز خود فیصلہ لکھنا چھوڑ دیں گے، نقول کی تعداد کم کرکے تین کی،15 جون سے صرف پٹیشنز کی سافٹ کاپی لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا استعمال اپنی عدالت سے شروع کروں گا، جو مقدمات نمٹائے جاتے ہیں ان کی ردی فروخت کر دیتے ہیں، سزائے موت کی سپریم کورٹ میں 403 اپیلیں زیرالتواء تھیں، سزائے موت کے قیدیوں کی 178 اپیلیں نمٹا دی ہیں، ترجیح ہے کہ سزائے موت کے قیدیوں کی اپیلیں جلد نمٹا لیں، 1200 سے زائد اپیلیں ایسی ہیں جو مجرمان دو تہائی عمر قید کاٹ چکے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاک بھارت تنازع ٹھنڈا ہونے دیں تب تک لوگوں کو مثبت خبریں دیں، ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں دوسری شفٹ شروع کر رہے ہیں، شام کی شفٹ میں 2 سے 5 بجے تک کیسز سنے جائیں گے،
یہ صرف آپشنل ہوگا جو ججز شام کی شفٹ میں کام کرینگے انکی تنخواہ 50 فیصد بڑھائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ میں 26ویں ترمیم پر بات نہیں کروں گا جب تک عدالت اسکا فیصلہ نہیں کرے گی، میں ایک ہائیکورٹ سے دوسرے ہائیکورٹ میں ججز ٹرانسفر کو سپورٹ کرتا ہوں، مگر میری رائے میں ٹرانسفر ہونے والے ججز سینیٹارٹی میں سب سے نیچے ہونگے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ایک پارلیمان ہے، پارلیمان نے قانون بنانے ہیں، پارلیمان کے بنائے قوانین کا عدالتی فیصلوں کے آنے تک ہمیں احترام کرنا ہے، عدالتی فیصلوں کے بعد 26 ویں ترمیم پر ضرور رائے دوں گا۔
صحافی نے سوال کیا کہ مخصوص نشستوں کے نظرثانی بنچ میں آپ کو شامل نہیں کیا گیا کیا کہیں گے؟ چیف جسٹس نے سینے پر ہاتھ کر جواب دیا کہ بہت ظلم کیا ہے۔