ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کینیڈا کے نئے وزیر اعظم مارک کارنی کی پہلی ملاقات غیر معمولی طور پر خوشگوار رہی، لیکن تجارتی پالیسیوں پر اختلافات بدستور برقرار ہیں۔ کارنی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ "کینیڈا کبھی فروخت کے لیے نہیں ہے"۔ ٹرمپ نے جواب میں کہا "کبھی نہ کبھی، کچھ بھی ممکن ہے۔"
اگرچہ ملاقات مثبت انداز میں ہوئی، وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں ٹرمپ کی کینیڈا کو امریکہ کی 51 ویں ریاست بننے کی پیشکش کی، مارک کارنی کی ٹرمپ کے ساتھ تجارتی تنازعات اور امریکی محصولات پر بھی بات چیت ہوئی, ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ تجارتی تعلقات میں امریکہ کے مفادات کو ترجیح دینے کی بات کی، جبکہ کارنی نے کینیڈا کی خودمختاری اور آزاد تجارتی پالیسیوں کا دفاع کیا۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں کی مسکراہٹوں اور غیر رسمی انداز میں گفتگو کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں، جس سے عوامی سطح پر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ملاقات کے بعد امریکی صدر سے صحافی نے سوال کیا کہ کیا وہ کینیڈا پر عائد ٹیکس اور ٹیرف ختم کریں گے، تو ان کا دوٹوک جواب تھا "یہ بس ایسے ہی ہے۔"انہوں نے واضح کر دیا کہ مارک کارنی کی باتوں سے ان کا مؤقف تبدیل نہیں ہوگا۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ کی جانب سے عائد تجارتی پابندیوں نے کینیڈا میں عوامی غصے کو جنم دیا، جس کے نتیجے میں مارک کارنی کی قیادت میں نئی حکومت وجود میں آئی۔ مبصرین کے مطابق کارنی کا نرم لہجہ وقتی ہے، لیکن اصل امتحان تجارتی مذاکرات میں ہوگا۔