ویب ڈیسک: پاکستان سفارتکاری، علاقائی تعاون اور دہشت گردی کے خلاف اپنی قربانیوں کے ذریعے امن کی راہ اختیار کیے ہوئے ہے، جنہیں عالمی سطح پر تسلیم بھی کیا جاتا ہے، بھارتی میڈیا ہر بحران کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو جھوٹے فالس فلیگز اور بے بنیاد بیانیوں کے ذریعے موردِ الزام ٹھہراتا ہے۔
اپریل 2026 تک کی تازہ صورتحال میں، پاکستان کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران بھارتی فوج اور گودی میڈیا مسلسل پروپیگنڈا مہمات چلا رہے ہیں تاکہ اپنی عسکری ناکامیوں کو چھپا سکیں اور افواج کے مورال کو بلند رکھ سکیں۔ بھارت نے کراچی کے علاقے ملیر میں ایک لڑاکا طیارے کے حادثے کی جھوٹی خبر پھیلائی، جس کے لیے 2020 کے پی آئی اے طیارہ حادثے کی ویڈیو دوبارہ استعمال کی گئی جس میں دو مسافر، جن میں بینک آف پنجاب کے صدر بھی شامل تھے، زندہ بچ گئے تھے۔ اس قسم کی من گھڑت خبریں بھارت کی کمزوریوں کو چھپانے اور عوامی تاثر کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔
بھارتی میڈیا کی من گھڑت کہانیاں بے نقاب ہونے سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہے اور وہ بے بنیاد پروپیگنڈا مہمات کے باوجود مستحکم ہے۔ گودی میڈیا نے کراچی بندرگاہ کی تباہی جیسے جھوٹے دعوے کیے، حالانکہ بندرگاہ مکمل طور پر فعال ہے، جبکہ میزائل حملوں کے لیے اسرائیل کے آئرن ڈوم کی پرانی ویڈیوز استعمال کی گئیں۔
ڈرون دراندازیوں میں مسلسل ناکامی اور پاکستانی اہداف کو نشانہ بنانے میں ناکامی کے بعد بھارتی میڈیا گھبراہٹ کا شکار ہو کر پاکستان کے خلاف جھوٹے دعوے کر رہا ہے۔ پاک فضائیہ کے طیارے گرانے کے دعوے، خصوصاً ایف-16 سے متعلق بیانیہ، بارہا غلط ثابت ہو چکے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان کی مسلح افواج ہر ممکن خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہیں۔
The New York Times d.کی رپورٹ “How the Indian Media Amplified Falsehoods in the Drumbeat of War” نے انکشاف کیا کہ بھارتی میڈیا نے حالیہ چار روزہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران جھوٹے اور اشتعال انگیز بیانیے پھیلائے۔ ان میں پاکستان کے جوہری اڈے پر حملے، دو پاکستانی طیارے گرانے اور کراچی بندرگاہ پر حملے جیسے دعوے شامل تھے جو درست ثابت نہیں ہوئے۔ کراچی حملے کی تصاویر دراصل غزہ سے لی گئی تھیں، جبکہ بھارتی بحریہ نے بھی بعد میں اس کی تردید کی۔
سیاسیات کی پروفیسر Sumitra Badrinathan نے خبردار کیا کہ معتبر سمجھے جانے والے صحافی بھی غلط معلومات پھیلانے کا ذریعہ بن گئے۔ سینئر صحافی Rajdeep Sardesai نے پاکستان کے طیارے گرائے جانے کی جھوٹی خبر نشر کرنے پر معذرت کی اور اعتراف کیا کہ یہ غیر تصدیق شدہ معلومات تھیں۔
آزاد فیکٹ چیکنگ پلیٹ فارم Alt News، جسے Pratik Sinha نے قائم کیا، نے متعدد جھوٹی خبروں کو بے نقاب کیا، تاہم انہیں ہراسانی، قانونی دباؤ اور ہتک عزت کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ 2014 میں مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت میں میڈیا آزادی میں کمی دیکھی گئی ہے۔
جب بھی بھارت کو سیاسی یا عسکری دباؤ کا سامنا ہوتا ہے، اس کا میڈیا جنگی فضا پیدا کر کے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ پلوامہ سے لے کر پہلگام تک ہر واقعے کو بغیر مکمل تحقیق کے پاکستان کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ عالمی تعاون کے ساتھ لڑی ہے، مگر بھارتی میڈیا ان کوششوں کو نظر انداز کر کے “سرحد پار دہشت گردی” کا بیانیہ فروغ دیتا ہے۔
پاک بھارت امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ وہ بیانیہ ہے جو میڈیا اسٹوڈیوز میں تشکیل دیا جاتا ہے، جہاں جنگ کو فروغ دیا جاتا ہے اور مکالمے کو کمزور کیا جاتا ہے۔
پاکستان کی مشترکہ تحقیقات کی پیشکشوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے کیونکہ حقیقت سامنے آنے سے سیاسی بیانیہ کمزور پڑ سکتا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان سفارتکاری اور امن کے ذریعے عالمی سطح پر روابط کو فروغ دے رہا ہے، جبکہ بھارتی میڈیا عوام کو محدود اور یکطرفہ بیانیے میں رکھتا ہے۔