ویب ڈیسک: بھارتی افواج میں خواتین کے ساتھ جنسی ہراسانی اور ادارہ جاتی ناکامیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
ہندوستانی فوج، جسے ایک منظم، شفاف اور حب الوطنی کا مظہر قرار دیا جاتا ہے، حقیقی طور پر اپنی خواتین افسران کو جنسی ہراسانی، جسمانی حملوں اور دھمکیوں سے محفوظ رکھنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ بھارتی فوج میں خواتین افسران کو جنسی ہراسانی کا ہدف بنایا جا رہا ہے۔
بھارتی فوج کے اندرونی نظام کی خرابی اچھے ماحول کی حامل فوج کی دعویدار اقدار کا خاتمہ کرتے ہیں اور اس کی ملٹری قیادت میں گہری اخلاقی و ادارہ جاتی کمزوریوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔
2025 میں پٹیالہ کے 1 آرمڈ ڈویژن میں ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا، جہاں ایک خاتون میجر نے ایک حاضر سروس لیفٹیننٹ کرنل پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا۔ قانون کے مطابق “ جنسی ہراسانی کے خاتمے، روک تھام اور شکایات کے ازالے کے قانون 2013” (POSH Act) کے تحت کارروائی ہونا چاہیے تھی، لیکن فوجی حکام نے اسے نظرانداز کرتے ہوئے ایک داخلی “انکوائری” شروع کی اور لازمی انٹرنل کمپلینٹس کمیٹی (ICC) کے عمل کو بالکل نظرانداز کیا۔
رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ متاثرہ خاتون پر دباؤ ڈال کر شکایت واپس لینے کی کوشش کی گئی، جو خواتین افسران کی حفاظت اور وقار کے لیے مکمل بے اعتنائی کی علامت ہے۔ یہ کیس ایک الگ واقعہ نہیں بلکہ گزشتہ دہائی میں ہندوستانی فوج میں خواتین افسران کیخلاف جاری سنگین اور خطرناک رجحان کا حصہ ہے۔
2015 میں ایک کپتان نے اپنے سینئر کرنل پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا۔ ابتدائی فوجی ردعمل سست اور ناکافی تھا، حالانکہ کمیٹی نے بعد میں ابتدائی شواہد ملنے کی تصدیق کی، جو فوج میں احتساب کی تاخیر اور نظامی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔
2021 میں ایک میجر نے اپنے کوارٹرز میں 11 سالہ گھریلو ملازمہ کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ واضح شواہد اور متاثرہ کی مستقل شہادت کے باوجود صرف عدالت کی مداخلت کے بعد انصاف ہوا، جو فوجی داخلی احتساب میں سنگین خامیوں کو اجاگر کرتا ہے۔
2024 میں ایک خاتون افسر نے ونگ کمانڈر کی جانب سے طویل ہراسانی، جسمانی حملے اور ذہنی اذیت کی رپورٹ دی۔ پولیس کیس درج کرنے کے باوجود ملزم کو انتظار میں ضمانت مل گئی، جو ادارہ جاتی جانبداری اور متاثرین کے لیے انصاف کے حصول میں شدید رکاوٹوں کو ظاہر کرتا ہے۔
قانونی فریم ورک، جیسے POSH قانون، اکثر نظرانداز کیے جاتے ہیں، اور موثر انٹرنل کمپلینٹس کمیٹیاں نہ ہونے سے خواتین کی حفاظت کمزور پڑ جاتی ہے۔ دیہی اور باغی علاقوں میں فوجی دائرہ اختیار اور AFSPA کی دفعات شہری عدالتی نگرانی کو محدود کرتی ہیں، جس سے متاثرین کے لیے قانونی چارہ جوئی تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔
رپورٹنگ میں اضافہ کے باوجود حقیقی ادارہ جاتی اصلاحات اور سخت نفاذ کی کمی نے خواتین کے لیے دشمنانہ ماحول پیدا کیا ہے، جو ملک کی خدمت کرنے والی خواتین افسران کے لیے خطرناک ہے۔
یہ کیسز، جو 2015 سے 2025 تک بھارتی میڈیا رپورٹس اور عدالتی ریکارڈز سے تصدیق شدہ ہیں، واضح کرتے ہیں کہ ہندوستانی فوج کے ظاہری عزت، نظم و ضبط اور حب الوطنی کے دعوے سسٹمیٹک جنسی ہراسانی، طاقت کے غلط استعمال اور ادارہ جاتی لاپروائی سے بھرے ہوتے ہیں۔ وہ خواتین افسران جو ملک کی حفاظت میں اپنی جان کی بازی لگاتی ہیں، بدعنوانی اور ہراسانی کے سامنے بے بس رہتی ہیں، جس سے بھارتی فوج میں شفاف اصلاحات اور حقیقی احتساب کی کمی پائی جاتی ہے۔