ویب ڈیسک:بار بار خبردار کیے جانے کے باوجود بیشتر افراد اب بھی ایسے کمزور پاس ورڈز استعمال کر رہے ہیں جن کا اندازہ لگانا نہایت آسان ہوتا ہے۔
ٹیکنالوجی کمپنی پیک اے آئی (Pek AI) کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چھ سالوں میں ہیک ہونے والے 10 کروڑ سے زائد پاس ورڈز کے تجزیے کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ زیادہ تر لوگ اب بھی انتہائی آسان اور غیر محفوظ پاس ورڈز استعمال کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ‘123456’ دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا پاس ورڈ ہے۔ یہ پاس ورڈ کئی برسوں سے مسلسل مقبول ترین (اور بدترین) پاس ورڈ کی فہرست میں سرفہرست رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 66 لاکھ سے زیادہ اکاؤنٹس میں یہی پاس ورڈ استعمال کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق دوسرے نمبر پر 123456789، تیسرے پر 111111، چوتھے پر password اور پانچویں نمبر پر qwerty رہا۔ اسی طرح abc123، 1234567، password1، 1234567 اور 123123 بالترتیب فہرست کے دیگر نمبرز پر موجود ہیں۔
ماہرین کے مطابق بینکنگ، آن لائن شاپنگ اور سوشل میڈیا جیسے پلیٹ فارمز پر محفوظ رہنے کے لیے مضبوط پاس ورڈز کا استعمال انتہائی ضروری ہے، کیونکہ سائبر کرمنلز مسلسل صارفین کو ہدف بناتے رہتے ہیں۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاس ورڈ کم از کم 12 حروف پر مشتمل ہونا چاہیے۔اس میں اعداد، بڑے و چھوٹے حروف اور اسپیشل کریکٹرز (جیسے @ یا !) کا استعمال لازمی ہونا چاہیے۔
ہر اکاؤنٹ کے لیے الگ پاس ورڈ بنانا چاہیے۔ اور سب سے اہم بات، پاس ورڈ اپنی ذاتی معلومات جیسے نام، تاریخ پیدائش یا مشاغل پر مبنی نہیں ہونا چاہیے۔
اگرچہ ٹیکنالوجی کمپنیاں پاس ورڈ کے متبادل نظاموں پر کام کر رہی ہیں، مگر ماہرین کے مطابق محفوظ ڈیجیٹل دنیا کے لیے مضبوط پاس ورڈز ہی فی الحال بہترین دفاع ہیں۔