ویب ڈیسک: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خودکش دھماکے کے شہدا کی نمازِ جنازہ امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ اور امام بارگاہ جامع صادق میں ادا کر دی گئی۔ امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ میں 11 جبکہ امام بارگاہ جامع صادق میں 3 شہدا کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جبکہ مجموعی طور پر 33 شہدا کی غائبانہ نمازِ جنازہ بھی ادا کی گئی۔
نمازِ جنازہ کے مواقع پر وفاقی وزرا، پولیس اور سیکیورٹی حکام، مختلف مکاتبِ فکر کے جید علمائے کرام، سیاسی رہنماؤں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
شہدا کی میتیں جب نمازِ جنازہ کے لیے لائی گئیں تو فضا رقت آمیز ہو گئی۔ ہر طرف آہیں اور سسکیاں سنائی دیتی رہیں، جبکہ سوگوار لواحقین اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔
امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ میں نمازِ جنازہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ علامہ حسین مقدسی نے پڑھائی۔ اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور پولیس و دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر الرٹ رہے۔
دوسری جانب جی نائن میں واقع امام بارگاہ جامع صادق میں شہدا کی نمازِ جنازہ آغا شیخ محمد شفا نجفی نے پڑھائی، جس میں اپوزیشن لیڈر، آئی جی اسلام آباد، سیاسی و مذہبی شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ جنازہ گاہ کے اطراف بھی سخت سیکیورٹی انتظامات نافذ کیے گئے تھے۔
اس موقع پر شرکا نے خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہدا کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی، جبکہ مطالبہ کیا کہ دہشت گردی میں ملوث عناصر کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔