ویب ڈیسک: تبت اور نیپال میں 7.1شدت کا زلزلے کے باعث 95سے زائدافراد ہلاک جبکہ 130 سےزائد زخمی ہو گئے۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے زلزلے میں قیمتی جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق زلزلے کی گہرائی 10 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ زلزلے کا مرکز تبت کا علاقہ ڈنگری تھا، زلزلے کے باعث متعدد عمارتیں گر گئیں ، زلزلے کے بعد متعدد آفٹر شاکس بھی ریکارڈ کئے گئے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ زلزلے بعد ریسکیو ٹیموں کی جانب سے امدادی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
امریکا کے زلزلہ پیما مرکز ’یو ایس جیولوجیکل سروے‘ کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 7.1 تھی جب کہ اس کا مرکز تبت میں 10 کلو میٹر زیرِ زمین تھا۔
دوسری جانب چین کے زلزلہ پیما مرکز نے زلزلے کی شدت 6.8 بتائی ہے۔
عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق زلزلے کے جھٹکے تبت کے نیپال کی سرحد کے ساتھ واقع شینگاتسے کے پورے خطے میں محسوس کیے گئے۔ اس خطے کی آبادی لگ بھگ آٹھ لاکھ ہے۔
اس خطے کا انتظام بودھ مقدس شہرشنگاستے کے ذریعے چلایا جاتا ہے جہاں بودھ باشندوں کے مذہبی پیشوا ’پنچن لاما‘ کی نشست بھی ہے۔ یہ تبت کے بودھ باشندوں کی سب سے اہم ترین مذہبی شخصیت قرار دی جاتی ہے۔
اس خطے میں کئی دیہات سے رپورٹس موصول ہوئی ہیں کہ زلزلے سے گھروں سمیت کئی عمارتیں منہدم ہو چکی ہیں۔
زلزلے کے مرکز کے اطراف میں 20 کلومیٹر کے علاقے میں لگ بھگ 30 ٹاون شپ اور دیہات ہیں۔
زلزلے کے جھٹکے تبت کے پڑوس میں واقع نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں بھی محسوس کیے گئے جو زلزلے کے مرکز سے لگ بھگ 380 کلو میٹر دور واقع ہے۔
ریاستہائے متحدہ امریکا کے جیولوجیکل سروے (USGS) کے مطابق، زلزلہ صبح 6.35 بجے، نیپال- تبت سرحد کے قریب لوبوچے کے شمال مشرق میں 93 کلومیٹر پر آیا۔
چین کے زلزلہ نیٹ ورکس سینٹر (CENC) کے مطابق، صبح 9:05 بجے (0105 GMT) نیپال کی سرحد کے قریب ڈنگری کاؤنٹی میں 6.8 کی شدت کے ساتھ زلزلہ آیا۔
USGS نے کہا کہ گزشتہ صدی کے دوران جہاں منگل کو زلزلہ آیا تھا وہاں کم از کم 6 شدت کے 10 زلزلے آ چکے ہیں۔
آج کا زلزلہ پچھلے پانچ سالوں میں 200 کلومیٹر کے دائرے میں ریکارڈ کیا گیا سب سے طاقتور زلزلہ تھا۔
2015 میں، تقریباً 9,000 افراد ہلاک اور 22,000 سے زیادہ زخمی ہوئے جب نیپال میں 7.8 شدت کا زلزلہ آیا، جس سے نصف ملین سے زیادہ گھر تباہ ہوئے۔
اس طرح اسی خطے میں موجود جنوبی ایشیا کے ملک بھوٹان کے دارالحکومت تھمپو میں بھی زلزلے کے جھٹکوں سے شہری باہر نکل آئے۔
بھارت کے شمال میں واقع ریاست بہار بھی اس زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ بہار کے کئی حصوں بشمول مظفر پور، موتیہاری، بیتیہ، مونگیر، ارریہ، سیتامڑھی، گوپال گنج، ویشالی، نوادہ اور نالندہ میں تقریباً 30 سیکنڈ تک زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
بھارتی حکام کے مطابق زلزلے سے اب تک کسی قسم کے نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔
واضح رہے کہ جس خطے میں زلزلے آیا ہے یہ ہندوستان اور یوریشیا کا وہ خطہ ہے جہاں زمین کی پرتیں آپس میں ملتی ہیں اور اسی ہمالیہ خطے میں دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلے بھی ہیں۔ اس خطے میں تواتر سے زلزلے آتے رہتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تبت میں منگل کو آنے والے زلزلے کا مرکز نیپال میں واقع دنیا کے بلند ترین پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ سے صرف 75 کلومیٹر دور تھا۔
اس خطے میں سطح سمندر سے اوسط بلندی لگ بھگ چار ہزار میٹر ہے۔
صدرمملکت کا قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہارافسوس:
صدر مملکت آصف علی زرداری نے چین کے علاقے شی زانگ میں زلزلے میں قیمتی جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا ہے۔صدر مملکت نے زلزلے میں ہلاکتوں اور مالی نقصان پر دُکھ اور افسوس کا اظہارکیا ہے۔
اپنے بیان میں صدر مملکت کا کہنا تھا کہ دُکھ کی اِس گھڑی میں میری ہمدردیاں چینی حکومت، عوام اور زلزلہ متاثرین کے ساتھ ہیں۔دُکھ کی اِس گھڑی میں اپنے چینی بھائیوں اور بہنوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
صدر مملکت نے زلزلے کے نتیجے میں زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعاکی۔