ویب ڈیسک : بھارت میں منشیات کی نئی قسم ’’ بلیک کوکین متعارف ، منشیات کی سپلائی ، استعمال اور اسمگلنگ کا عالمی مرکز بن گیا ، اربوں مالیت کی ہزاروں کلو منشیات برآمد ، منشیات کے بین الاقوامی اسمگلرز پر مشتمل ریکٹ گرفتار کر لیا گیا۔
ڈوئچے ویلے کی رپورٹ کے مطابق نئی دہلی میں حکام نے اکتوبر میں 560 کلو (1,200 پاؤنڈ) کوکین اور تقریباً 40 کلو ہائیڈروپونک چرس ضبط کی۔ ضبط شدہ منشیات کی عالمی منڈی میں قیمت تقریباً$669 ملین (€642 ملین) تھی اس حوالے سے بین الاقوامی منشیات کے سنڈیکیٹ سے منسلک سمگلروں اور ڈیلرزکی متعدد گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئیں۔
پولیس نے کرائے کی دکان میں چپس اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء کے پیکٹ میں چھپائی گئی مزید 208 کلو کوکین ضبط کر لی۔
دہلی اور گجرات کے ریاستی پولیس محکموں کے درمیان مشترکہ آپریشن کے نتیجے میں گجرات میں ایک دوا ساز کمپنی سے 518 کلو کوکین ضبط کی گئی، جس کی مالیت تقریباً 595 ملین ڈالر تھی۔
بھارت کےسابق نارکوٹکس کمشنر رمیش بھٹا چاریہ کا اس حوالےسے کہنا تھا کہ بھارت ہمیشہ سے منشیات کا عالمی اسمگلنگ کا مرکز رہا ہے لیکن اب اسمگلنگ کے راستے بڑھنے کے ساتھ ساتھ طریقے بھی جدید ہوگئے ہیں انہوں نےانکشاف کیا کہ مبینہ طور پر اس سے دس گنا منشیات پکڑی نہیں جاسکیں۔
ڈائریکٹوریٹ آف ریونیو انٹیلی جنس (DRI) کی رپورٹ کے مطابق کوکین کے ساتھ ساتھ، میتھیمفیٹامین کی اسمگلنگ میں بھی اضافہ ہواہے۔
رپورٹ میں " بلیک کوکین" نامی منشیات کا بھی انکشاف کیا گیا جس کاپتہ چلانا ناممکن ہے۔
کوکین کو کیمیائی طور پر چارکول یا آئرن آکسائیڈ میں ملا کر تیار کیا جاتا ہے، جس سے تیار پراڈکٹ ایک سیاہ پاؤڈر کی شکل میں سامنے آتی ہے اس منشیات کو سونگھ کر بھی نہیں پکڑا جاسکتا جب تک اسے استعمال نہ کیا جائے ۔
دوسری طرف بھارت میں متوسط طبقے کی قوت خرید میں اضافے کےبعد نوجوان نسل میں کونین جیسے مہنگے نشے کی کھپت میں اضافہ ہوا ہے۔
نوجوانوں کی طرف سے ہیروئن، کرسٹل میتھ، مصنوعی منشیات اور ہائیڈروپونک چرس کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے بھارت میں میتھ تیار کرنے والی گھریلو لیبز میں بھی اضافہ ہوا ہے، جو میتھمفیٹامین کے استعمال میں پریشان کن اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
2023 میں بھارتی پارلیمنٹ میں پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب میں منشیات کے استعمال کرنے والوں کی تعداد 6.6 ملین سے زیادہ پائی جن میں 10 سے 17 سال کی عمر کے تقریباً 697,000 بچے ہیں۔ ان میں سے، 343,000 بچے اوپیئڈ ادویات (بشمول ہیروئن)، 18,100 کوکین اور تقریباً 72,000 دیگر منشیات استعمال کرتے ہیں۔
یادرہے اقوام متحدہ کی انسداد منشیات ایجنسی UNODC بھارت کو بین الاقوامی سطح پر میتھ لیبز کے لیے ادویات کی غیر قانونی ترسیل کا ایک بڑا مرکز قرار دے چکی ہے ۔
ڈی ڈبلیو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، گورنمنٹ میڈیکل کالج کے ڈاکٹر یاسر راٹھور اورشری مہاراجہ ہری سنگھ اسپتال سری نگر کے منشیات بحالی مرکز ڈاکٹر ساجد محمد وانی نے بتایا کہ 2014 س میں ہیروئن کی لت میں مبتلا شاذ و نادر کیس آتے تھے جن کی تعداد 3-4 کیسز س تاہم اب اس میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے ۔ 2024 میں روزانہ اب منشیات بحالی مرکز میں 250 کیسز آتے ہیں۔
بھارتی بحریہ کی ناکارہ قیادت اور کمزور ی کے باعث سمندری راستے سے منشیات کی اسمگلنگ میں روزافزوں اضافہ جاری ہے۔ 2020 سےلے کر 2024 تک گجرات اور ممبئی جیسے ساحلی علاقوں میں منشیات کی بڑی کھیپیں پکڑی گئیں۔
دوسری طرف بھارتی فوج کے اندر موجود بدعنوان افسر اور اہلکار شمال مشرقی سرحدی علاقوں آسام اور میزو رام سے منشیات کی اسمگلنگ میں سہولت کار بنے ہوئے ہیں اور کروڑوں کی دیہاڑیاں لگا رہے ہیں ۔