ویب ڈیسک: امریکا نے کیوبا میں گوانتانامو بے میں قائم اپنے متنازعہ بحری اڈے میں قید یمن کے 11 شہریوں کو رہا کر دیا ہے، جہاں وہ دو دہائیوں سے بھی زیادہ وقت سے بغیر کسی الزام کے قید میں تھے۔
ان تازہ رہائیوں کے بعد گوانتانامو بے کی بدنام زمانہ امریکی قید خانے میں اب صرف پندرہ قیدی بچے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ یہاں تقریباً 700 قیدی تھے، جن میں سے اکثر پر کبھی بھی جرائم کا کوئی الزام تک نہیں عائد کیا گیا۔
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے پیر کے روز دیر گئے اعلان کیا کہ ان 11 افراد کو عمان منتقل کر دیا گیا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ اپنے آخری ہفتوں میں بغیر کسی الزام کے ایسے قیدیوں کی سہولت کو ختم کرنے پر زور دیتی رہی اور اسی سلسلے میں یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔
محکمہ دفاع نے ایک بیان میں کہا، "امریکہ حکومت عمان اور اپنے دیگر شراکت داروں کی جانب سے قیدیوں کی آبادی کو ذمہ داری سے کم کرنے اور بالآخر گوانتاناموبے کی سہولت کو بند کرنے پر مرکوز امریکی کوششوں کی حمایت کرنے کے لیے ان کی آمادگی کو سراہتا ہے۔"
امریکا میں قائم آئینی حقوق سے متعلق ایک ادارے کے مطابق، تازہ ترین منتقلی میں جن افراد کو رہا کیا گیا ہے، اس میں شقاوی الحاج بھی شامل ہیں، جنہوں نے بغیر کسی الزام کے 21 برس تک قید میں رہنے کے خلاف بطور احتجاج بھوک ہڑتالیں بھی کیں۔ انہیں دو سال تک حراست کے دوران زبردست تشدد اور ایزاؤں کا سامنا کرنا پڑا۔
ایک ہفتے قبل بھی امریکا نے گوانتاناموبے کے ایک اور قیدی کو تیونس واپس بھیجنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد گیارہ یمنی شہریوں کو رہا کیا گیا ہے، اس طرح سے گوانتاناموبے میں بند قیدیوں کی کل تعداد کم ہو کر 15 رہ گئی ہے۔
سبکدوش ہونے والے صدر جو بائیڈن نے سن 2020 میں اپنے انتخاب سے قبل گوانتاناموبے کو بند کرنے کی کوشش کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن ان کی مدت کار میں اب صرف چند دن ہی باقی بچے ہیں۔
یکے بعد دیگرے متعدد انتظامیہ نے بھی کوششیں کیں، تاہم اس عقوبت خانے کو بند کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اکثر قیدیوں کو وطن واپس بھیجنے کے لیے موزوں ممالک کی تلاش میں مشکلات کا حوالہ بھی دیا جاتا رہا ہے۔
گوانتانامو میں پھنسے بہت سے افراد کا تعلق یمن سے ہے، جو ایک ایسا ملک ہے کہ جس پر کئی دہائیوں کی جنگ کے بعد ایران کے اتحادی حوثی عسکریت پسند گروپ کا غلبہ ہے۔
باقی بچے 15 قیدیوں میں سے سات پر 9/11 کے حملوں میں ملوث ہونے سمیت جنگی جرائم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں اور دو کو مجرم قرار دے کر سزا بھی سنائی گئی ہے۔
لیکن چھ پر ابھی تک کسی بھی جرم کا الزام تک نہیں لگایا گیا ہے اور وہ بھی دوسرے ملک میں منتقلی کے لیے نظرثانی کے اہل بتائے جائے رہے ہیں۔