ویب ڈیسک: بھارت میں اقلیتوں کے خلاف تشدد کے مزید واقعات سامنے آئے ہیں، جن میں آر ایس ایس سے منسوب انتہا پسند عناصر پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔
دی ہندوستان گزٹ نے انتہاپسند مودی کے نام نہاد سیکولر بھارت کی قلعی کھول دی۔ دی ہندوستان گزٹ کے مطابق بہار میں مسلمان مزدور نرشید عالم کو آر ایس ایس کے شرپسندوں نے بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا ۔ مظلوم مزدورنرشید عالم کو انتہا پسند ہندوؤں نے ظلم و ستم کا نشانہ بناکر “جے شری رام” اور “ بھارت ماتا کی جے” کے نعرےزبردستی لگوائے۔ سماجی کارکن ضیاء الحق نے دی ہندوستان گزٹ کو بتایا کہ نرشید عالم کی حالت نازک ہے اور اسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔
برطانوی میڈیا 5 Pillars”کے مطابق بھارتی ریاست راجستھان میں ایک بزرگ مسلمان کو بھی ہندوتوا نظریہ کے شدت پسندوں نے جھوٹے الزامات لگا کر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ بھارتی صحافی وقار حسن کے مطابق آر ایس ایس کے غنڈوں نے مسلمان شہری کو گائے کا گوشت کھانے کے الزام میں بنگلہ دیشی قرار دے کر سڑک پر گھسیٹا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ کسی ذاتی جھگڑے یا حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ مودی کی سیاسی پشت پناہی میں شرپسندوں کے ذریعے قتل و تشدد کی منظم سازش ہے۔
ماہرین کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کے خلاف اس طرح کے پُر تشددواقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ گودی میڈیامنظم اسلام اور مسلمان دشمنی میں نفرت کی ہندوتوا سیاست پھیلانے میں مصروف ہیں۔