ویب ڈیسک: گرمیوں کی تعطیلات کے دوران فضائی سفر کا رجحان عروج پر ہے، مگر طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ طویل پرواز بعض افراد کے لیے جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر وہ مسافر جنہیں پہلے سے کوئی بیماری لاحق ہو، انہیں پرواز سے قبل لازمی میڈیکل کلئیرنس لینا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق طویل پرواز کے بعد سینے میں درد، ٹانگوں میں سوجن یا سانس لینے میں دقت جیسی علامات کو ہرگز معمولی نہ سمجھا جائے، کیونکہ یہ مہلک بیماری پلمونری ایمبولزم (پھیپھڑوں میں خون کا جمنا) کی ابتدائی علامات ہو سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ حال ہی میں یو اے ای کا ایک رہائشی، جو برطانیہ سے آٹھ گھنٹے کی پرواز کے بعد وطن واپس آیا، سینے کے درد کی شکایت پر اسپتال لایا گیا۔ جانچ کے بعد اس میں پلمونری ایمبولزم کی تشخیص ہوئی۔ بروقت علاج کے باعث مریض کی جان بچ گئی، مگر ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اگر تھوڑی سی تاخیر ہوتی تو یہ مہلک ثابت ہو سکتا تھا۔
بیماری کیسے پیدا ہوتی ہے؟
پلمونری ایمبولزم عموماً ڈیپ وین تھرومبوسس (DVT) یعنی ٹانگ میں خون کے لوتھڑے کے باعث ہوتا ہے، جو سفر کرتے ہوئے پھیپھڑوں میں جا کر خون کے بہاؤ کو روک دیتا ہے۔ اس سے سانس لینے میں دشواری، سینے میں شدید درد اور اچانک بے ہوشی جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
خطرے کی زد میں کون لوگ ہیں؟
دل کے مریض یا حالیہ سرجری سے گزرنے والے افراد
دمہ یا سانس کی بیماریوں کے مریض
ذیابیطس کے شکار، خاص طور پر غیر کنٹرول شدہ کیسز
حالیہ انفیکشن یا کووڈ-19 کے مریض
حاملہ خواتین، خاص طور پر آخری سہ ماہی میں
ایسے افراد کو پرواز سے قبل ڈاکٹر سے مشورہ ضرور لینا چاہیے تاکہ حفاظتی اقدامات ممکن ہوں۔
طویل پرواز کے دوران احتیاطی تدابیر:
ہر ایک سے دو گھنٹے بعد اٹھ کر چہل قدمی کریں
زیادہ سے زیادہ پانی پئیں، کیفین، الکوحل اور تمباکو نوشی سے پرہیز کریں
کمپریشن جرابیں استعمال کریں (ڈاکٹر کے مشورے سے)
سکون آور یا نیند آور گولیاں نہ لیں جو حرکت میں رکاوٹ بنیں
ان علامات کو ہرگز نظر انداز نہ کریں:
سینے میں اچانک درد یا دباؤ
سانس لینے میں دقت
کسی ایک ٹانگ میں سوجن یا درد
تیز یا بے ترتیب دل کی دھڑکن
چکر آنا یا بے ہوشی
کھانسی کے ساتھ خون آنا
اگر پرواز کے دوران ایسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر کیبن کریو کو اطلاع دیں۔ ایئرلائنز میں اکثر ابتدائی طبی امداد اور آکسیجن دستیاب ہوتی ہے۔
پلمونری ایمبولزم ایک قابلِ احتیاط اور قابلِ علاج بیماری ہے۔ صرف تھوڑی سی آگاہی، مشورہ اور احتیاط سے آپ اپنا سفر نہ صرف محفوظ بلکہ خوشگوار بنا سکتے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ "ایک مختصر چیک اپ، ایک قیمتی جان بچا سکتا ہے۔"