ضم قبائلی اضلاع سے متعلق قائم کردہ کمیٹی کو تحلیل کیا جائے: بیرسٹر گوہر

ضم قبائلی اضلاع سے متعلق قائم کردہ کمیٹی کو تحلیل کیا جائے: بیرسٹر گوہر

ویب ڈیسک: تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ضم قبائلی اضلاع سے متعلق قائم کردہ کمیٹی کو فوری طور پر تحلیل کیا جائے، کیونکہ یہ اقدام صوبائی خودمختاری میں مداخلت کے مترادف ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 25ویں آئینی ترمیم کے بعد قبائلی علاقے باقاعدہ طور پر خیبرپختونخوا کا حصہ بن چکے ہیں، لہٰذا وفاق کی جانب سے ان پر علیحدہ کمیٹی قائم کرنا نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ اس سے شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں, قبائلی علاقے ہمیشہ حساس رہے ہیں اور خدشہ ہے کہ یہ کمیٹی ان علاقوں کے خلاف کسی سازش کا حصہ ہو سکتی ہے۔

بیرسٹرگوہر کا کہنا تھا کہ  قبائلی علاقوں سے سات ایم این ایز منتخب ہوچکے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ علاقے مکمل طور پر صوبے کا حصہ ہیں۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ یہ فیصلہ واپس لے اور صوبائی حکومت کو قانون سازی سمیت تمام فیصلے خود کرنے دے۔

شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ مشاورت ایک بہانہ ہے فاٹا نشانہ ہے ، ہم مزاحمت کریں گے اور فاٹا کو نہیں جانے دیں گے، وزیر اعظم فاٹا کے فیصلہ کرنا چاہتے ہیں ، جرگہ پہلے سے بن چکا ہے، اس کے علاؤہ کونسا جرگہ بنانا ہے ، فاٹا اور کے پی کے لوگ اپنے فیصلے خود کرنا جانتے ہیں ، آئینی اختیار کے خلاف جو کمیٹی بنائی گئی اس کو ختم کرنا ہوگا۔ 

سات سو ارب سے زائد پیسے فاٹا کے دینے ہیں اس میں اب تین سال رہ گئے ہیں ، وفاق فاٹا کی مقروض ہے فاٹا کے پیسے دینے ہیں ، فاٹا کے لوگوں کے ساتھ مخلص ہیں تو ان کے پیسے واپس کئے جائیں ، پیسے نہیں دیتے ، این ایف سی نہیں دیتے تو فاٹا کے حقوق کی بات کیسے کرتے ہیں ، دو نمبر کمیٹیاں بنے گی اور فاٹا کے نمائندے اس کو قبول نہیں کریں گے۔

پی ٹی آئی رکن اسمبلی اقبال آفریدی نے کہا کہ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ملکی حالات دیکھ رہے ہیں، لا اینڈ آرڈر کا ایشو ہے، سیاسی استحکام ختم ہے، عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ مفلوج ہوگئے ہیں، ہم نے 16 مہینے پارلیمان میں قبائلی عوام کے لیے آواز اٹھائی ہے، ہم نے بارہا مطالبہ کیا کہ قبائلی عوام سے ٹیکس نہ لیں، وہاں کے میگا پراجیکٹس کے لیے فنڈز ریلیز کریں۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ دنیا میں یہ قانون ہے کہ پہلے سہولیات دیں پھر ٹیکس لیں، لیکن قبائلی عوام پر 10 فیصد ٹیکس لگادیا گیا۔ ’میں شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں بانی پی ٹی آئی عمران خان، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور ارکان صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی کہ انہوں نے مائنز اینڈ منرل بل کو روکا۔‘

وفاقی حکومت کو جیسے ہی پتا چلا کہ عمران خان مائنز اینڈ منرلز بل صوبائی اسمبلی سے پاس نہیں ہونے دے گا تو یہ ڈراما شروع ہوگیا، میں سیفران کمیٹی کا ممبر ہوں، وہاں ایسی کوئی بات ڈسکس ہی نہیں ہوئی کہ قبائلی علاقوں کے لیے جرگہ یا ان کا اسٹیٹس تبدیل کرنے کے لیے وفاقی حکومت کوئی فیصلہ کرے کہ وہاں کے لوگوں کے حالات بہتر ہوں۔

انہوں نے کہا کہ مائنز اینڈ منرلز تک رسائی کے لیے وفاقی حکومت نے جو معاہدہ کیا ہے باہر کی دنیا کے ساتھ، میں واضح کررہا ہوں کہ وفاقی حکومت کے پاس اختیار نہیں کہ وہ صوبے کے معاملے میں مداخلت کرے اور نہ قبائلی عوام، پی ٹی آئی ارکان اسمبلی اور ارکان صوبائی اسمبلی وفاقی حکومت کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ قبائلی علاقوں کا اسٹیٹس تبدیل کرے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت مائنز اینڈ منرلز معاہدہ منسوخ کرے، قبائلی عوام کا جرگہ سسٹم کراچی جائیں یا کہیں بھی جائیں قابل قبول ہے، جرگے کا فیصلہ عدالتوں میں بھی مانا جاتا ہے۔

Watch Live Public News