ویب ڈیسک: پاک فوج کے جانباز سپوتوں نے وطنِ عزیز کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
تفصیلات کے مطابق عید کی خوشیاں شہداء کی قربانیوں کی مرہونِ منت ہیں، جنہوں نے اپنی جان دے کر ہمیں یہ دن آزادی اور امن سے منانے کا موقع دیا۔
عید کے اس موقع پر ہمیں نہ صرف شہداء کو، بلکہ اُن کے اہلِ خانہ کی لازوال قربانی کو بھی دل سے یاد رکھنا چاہیے۔
سپاہی عاطف خان شہید کے اہلِ خانہ نے عید کے موقع پر اپنے جذبات کچھ یوں بیان کیے:
سپاہی عاطف خان شہید کے والد نے کہا کہ عید کی قربانی کا سارا انتظام پہلے میرا بیٹا کیا کرتا تھا۔ اس بار عید میرے بیٹے کے بغیر ادھوری لگے گی، سپاہی عاطف خان شہید فجر کے بعد میرے ساتھ مسجد جاتا اور پھر ہم سب ساتھ میں ناشتہ کرتے۔
سپاہی عاطف خان کے والد کا کہنا تھا کہ ناشتے کے بعد میرا بیٹا گوشت تقسیم کرنے میں میری مدد کرتا تھا، محلے کے لوگ آج بھی اس کی محبت اور خدمت کو یاد کرتے ہیں۔
شہید سپاہی عاطف خان کے بھائی نے کہا کہ میرا بھائی سپاہی عاطف خان ہر عید پر فجر کی نماز کے بعد ہمارے ساتھ وقت گزارتا، اس بار مجھے میرے بھائی کی کمی بہت شدت سے محسوس ہو گی، عید کے موقع پر میرا بھائی چھٹی آیا کرتا تھا۔
بھائی کا کہنا تھا کہ امی اس کے پسندیدہ کھانے بناتی تھیں، اور شام میں سب سیر و تفریح کیلئے جایا کرتے تھے، مجھے فخر ہے کہ میرے بھائی نے وطن کی خاطر جان دی اور ہم سب کے لیے قربانی کی حقیقی مثال بنا۔
توقیر عباس شہید کے اہلخانہ کا جذبات سے بھرپور پیغام
عید الاضحٰی کے موقع پر نائیک توقیر عباس شہید کے اہل خانہ نے فخر اور جذبات سے بھرپور پیغام دیا۔
نائیک توقیر عباس شہید کی والدہ نے کہا کہ میرا بیٹا بہت فرمانبردار تھا، ماں کو تکلیف ہوتی تو فوراً حاضر ہوتا، اللہ میرے بیٹے کی شہادت قبول کرے اور ہمیں صبر جمیل عطا فرمائے، شہادت کو چار ماہ بیت گئے، لیکن ہم اسے پل بھر کے لیے نہیں بھولے۔
نائیک توقیر عباس شہید کے بھائی کا کہنا تھا کہ توقیر عباس بہت اچھے اخلاق کا مالک تھا، والدین کا بہت احترام کرتا تھا، وہ اپنی نوکری احسن طریقے سے انجام دیتا تھا، دو عیدیں گھر نہ آیا، اس عید پر آنا تھا، مگر شہادت کی خبر ملی۔
توقیر عباس شہید کے بھائی نے بتایا کہ شہادت کی خبر پر دل خوش بھی ہوا، لیکن دکھ ناقابلِ بیان ہے، شہادت کی خبر پر دل خوش بھی ہوا، لیکن دکھ ناقابلِ بیان ہے۔
نائیک توقیر عباس شہید کی بیٹی نے پاک فوج کا حصہ بن کر شہید والد کے نقش قدم پر چلنے کا خواب دیکھا۔
نائیک توقیر عباس شہید کی بیٹی نے پیغام میں کہا کہ عید تو آ گئی ہے، مگر میرے والد نہیں آئے۔ میرے والد مجھ سے بہت پیار کرتے تھے، میرے والد کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا، ان کی کمی ہر لمحہ محسوس ہوتی ہے، میرے والد بہت بہادر تھے، انہوں نے وطن کی خاطر جان قربان کی۔