ویب ڈیسک: 28 فروری کو اسرائیل کے حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران میں نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل تاحال مکمل نہیں ہوا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران میں اب عوام اور خواص دونوں طرف سے نئے رہبر معظم کے فوری تقرر کے مطالبات زور پکڑ گئے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق معروف شیعہ مرجع تقلید گرینڈ آیت اللہ ناصر مکرم شیرازی نے کہا کہ قیادت کا خلا ملکی نظم و نسق کے لیے نقصان دہ ہے اور نئے سپریم لیڈر کا فوری انتخاب ضروری ہے۔ اسی طرح گرینڈ آیت اللہ حسین نوری ہمدانی نے بھی مجلسِ خبرگان سے انتخاب کے عمل کو تیز کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ غیر یقینی صورتحال ختم ہو سکے۔
ایرانی آئین کے مطابق سپریم لیڈر کی غیر موجودگی میں عارضی طور پر ایک تین رکنی کونسل (صدر، سینئر مذہبی عالم اور عدلیہ کے سربراہ) اختیارات سنبھالتی ہے۔ نئی قیادت کا انتخاب تین ماہ کے اندر ہونا چاہیے، لیکن موجودہ جنگی صورتحال اور سیاسی پیچیدگیوں کے باعث یہ غیر واضح ہے کہ مجلسِ خبرگان کب باقاعدہ اجلاس کر کے حتمی فیصلہ کرے گی۔
ذرائع کے مطابق بعض علماء آن لائن مشاورت کر رہے ہیں، تاہم حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں ہوا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں امریکا کا بھی کردار ہونا چاہیے، لیکن ایران نے اس مطالبے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔