ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ جنگ بندی کے حوالے سے اہم اور مثبت پیش رفت جاری ہے، اور امید ظاہر کی ہے کہ امن معاہدہ جلد طے پا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ دنیا کے بیشتر ممالک نے غزہ امن منصوبے کو سراہا ہے، جب کہ حماس نے مذاکرات میں کئی اہم نکات پر اتفاق کر لیا ہے۔ ان کے بقول، ”ہم مشرق وسطیٰ کے تین ہزار سال پرانے تنازع کو حل کرنے کے قریب ہیں۔“
ٹرمپ نے بتایا کہ ترکیہ، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب بھی امن کے قیام کے لیے فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم نے تجارت اور ٹیرف کے ذریعے سات بڑی جنگیں روکیں، حتیٰ کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ جنگ کو بھی رکوا دیا۔ اس جنگ کے دوران سات طیارے مار گرائے گئے تھے، لیکن ہم نے سفارتی کوششوں سے صورتحال کو قابو میں رکھا۔”
امریکی صدر نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں یرغمالیوں کے معاہدے کے حوالے سے منفی رویہ ترک کرنا چاہیے، کیونکہ حماس اب کئی کلیدی معاملات پر لچک دکھا رہی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق “یہ موقع ضائع نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ دونوں فریق ایک تاریخی موڑ پر کھڑے ہیں۔”
انہوں نے امریکی سیاست پر بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ شٹ ڈاؤن کی وجہ ڈیموکریٹس ہیں جو غیرقانونی طور پر مقیم افراد کو صحت کی سہولیات دینے کے حامی ہیں۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اوباما دور میں اربوں ڈالر کی سبسڈیز نے امریکی معیشت کو نقصان پہنچایا۔ ان کے مطابق، “شکاگو اب بدامنی کا مرکز بن چکا ہے جبکہ واشنگٹن ڈی سی فوج کی تعیناتی کے بعد پرامن شہر میں تبدیل ہو گیا ہے۔”
ٹرمپ نے مزید بتایا کہ اسرائیلی عوام اب یرغمالیوں کی واپسی اور تنازع کے خاتمے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان غزہ میں امن کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر رہے ہیں اور حماس بھی ان کے احترام کی قائل ہے۔
بات چیت کے دوران امریکی صدر نے اقوامِ متحدہ کی اپنی تقریر کا ایک دلچسپ واقعہ بھی بیان کیا، ان کا کہنا تھا کہ “خطاب کے دوران ٹیلی پرامپٹر خراب ہوگیا تھا اور سامعین کو آواز واضح طور پر سنائی نہیں دے رہی تھی۔ میں نے بعد میں میلانیا سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ہیڈ فون میں آواز ہی نہیں آرہی تھی۔”
ٹرمپ نے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ تمام فریق اگر سنجیدگی کا مظاہرہ کریں تو جلد ایک تاریخی امن معاہدہ ممکن ہے، جو نہ صرف غزہ بلکہ پورے خطے میں استحکام کا باعث بنے گا۔