ویب ڈیسک:متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں میٹھے مشروبات پر نیا ٹیکس نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جو ان مشروبات میں موجود شکر یا مصنوعی مٹھاس کی مقدار کے مطابق لاگو ہوگا۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق یہ نیا درجہ وار (Tiered) ٹیکس نظام 1 جنوری 2026 سے پورے ملک میں نافذ ہو گا، اب تک میٹھے مشروبات پر 50 فیصد ایکسائز ٹیکس یکساں طور پر لاگو تھا، لیکن نئے نظام کے تحت یہ شرح مشروب میں موجود شوگر کی مقدار کے لحاظ سے مختلف ہوگی۔
وزارت کے مطابق اس کا مقصد ہے کہ زیادہ شوگر والے مشروبات پر زیادہ ٹیکس لگایا جائے تاکہ عوام کو صحت مند انتخاب کی ترغیب دی جا سکے۔
وزارتِ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ نئے ضوابط کے تحت وہ درآمد کنندگان اور مینوفیکچررز جن کی ٹیکس ذمہ داری نئے نظام کے بعد کم ہو جائے گی، انہیں پہلے سے ادا شدہ ٹیکس کا کچھ حصہ واپس لینے کی اجازت ہوگی بشرطیکہ متعلقہ اشیاء ابھی فروخت نہ ہوئی ہوں۔
یہ نیا نظام خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے مشترکہ فیصلے کے مطابق ہے، جس کے تحت تمام رکن ممالک میں میٹھے مشروبات پر شوگر لیول کے حساب سے ایکسائز ٹیکس نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق، یہ ترامیم نہ صرف ایک منصفانہ اور شفاف ٹیکس نظام قائم کرنے کے لیے ہیں بلکہ عوام کو صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرنے کی ترغیب دینے کے لیے بھی کی جا رہی ہیں۔