(ویب ڈیسک ) متحدہ عرب امارات کی وارننگ کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے مغربی کنارے کے انضمام کی کارروائی روک دی ہے۔
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت متحدہ عرب امارات کی جانب سے مغربی کنارے کے انضمام پر دی گئی عوامی تنبیہ پر حیران رہ گئی۔ یو اے ای نے تنبیہ کی تھی کہ یہ ’سرخ لکیر‘ ہے جو علاقائی انضمام کے خاتمے کا باعث بنے گی۔
امریکی اخبار کے مطابق، ایک اسرائیلی اہلکار نے انکشاف کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات ( یو اے ای) نے مغربی کنارے کے انضمام پر اپنے تحفظات ماضی میں بھی مختلف ذرائع سے ظاہر کیے تھے، تاہم حالیہ بیان کو غیرمعمولی اور حیران کن قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ انتباہ یو اے ای کی خصوصی ایلچی برائے اقوام متحدہ، لانا نسیبہ، نے منگل کے روز "ٹائمز آف اسرائیل" کو دیے گئے انٹرویو اور بعد ازاں ایک بیان کے ذریعے جاری کیا۔
اس کے علاوہ، "واشنگٹن پوسٹ" نے تین باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امارات کی طرف سے خفیہ ذرائع سے بھی سخت پیغامات بھیجے گئے، جس کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے جمعرات کی رات کابینہ اجلاس کے ایجنڈے سے انضمام کا معاملہ ہٹا دیا۔
یو اے ای کا یہ عوامی انتباہ خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس نے 2020 میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا کر ایک تاریخی قدم اٹھایا تھا، اور ایک چوتھائی صدی میں ایسا کرنے والی پہلی عرب ریاست بنی تھی۔ اُس وقت معاہدے کی بنیادی شرط یہی بتائی گئی تھی کہ اسرائیل مغربی کنارے کے علاقوں کے انضمام سے باز رہے۔
"واشنگٹن پوسٹ" کے مطابق، دو ذرائع کا کہنا ہے کہ یو اے ای کی وارننگ اُس وقت سامنے آئی جب نیتن یاہو نے نجی طور پر دی گئی اماراتی انتباہات کو نظر انداز کیا، جس پر ابوظہبی میں شدید ناراضی پائی گئی۔ مزید یہ کہ اماراتی حکام اسرائیل میں امریکی سفیر، مائیک ہکابی، پر بھی برہمی کا اظہار کر رہے ہیں، کیونکہ وہ نیتن یاہو کے مؤقف کی حمایت کرتے دکھائی دے رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق، اماراتی حکام اب محسوس کرتے ہیں کہ امریکا اور اسرائیل اب ان کے تحفظات کو زیادہ سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔
خیال رہے کہ بدھ کے روز اسرائیلی وزیر خزانہ نے مغربی کنارے کے تقریباً 82 فیصد حصے کے انضمام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے "فلسطینی ریاست کے تصور کو دفن کیا جا سکتا ہے"۔
اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ نیتن یاہو جمعرات کو سینئر وزراء کے ساتھ انضمام پر بات کرنے والے تھے، تاہم یو اے ای کی عوامی وارننگ کے بعد یہ ملاقات منسوخ کر دی گئی۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے جون 1967 کی 6روزہ جنگ کے بعد مغربی کنارے پر قبضہ کیا تھا، جسے دنیا کے بیشتر ممالک غیر قانونی قرار دیتے ہیں۔