ویب ڈیسک: سپریم کورٹ نے امریکی صدر کی درخواست پر زیریں عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ جس کے بعد وینزویلا کے شہریوں کو فوری طور پر ملک بدر کرنے کیلئے 1798جنگ کے وقت کے امیگریشن قانون کا استعمال کیا جاسکے گا۔
تفصیلات کے مطابق عدالتی فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کیلئے ایک عظیم فتح ہے جس کے بعد ٹرین ڈی آراگوا گینگ کے مبینہ ارکان کو امریکا بدر کیا جاسکے گا اور ٹرمپ انتظامیہ اپنی امیگریشن پالیسیز کو آگے بڑھا سکے گی۔
عدالت کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست پر 4-5 کے تناسب سے فیصلہ سنایا گیا۔ ایلین اینیمیز ایکٹ کا استعمال کرتے ہوئے امریکی سرزمین سے کچھ تارکین وطن کو ملک بدر کیا جارہا ہے۔
یاد رہے کہ ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت سے قبل یہ ایکٹ صرف تین مرتبہ استعمال کیا گیا ہے۔ جس میں 1812 کی جنگ، پہلی جنگ عظیم اور پھر دوسری جنگ عظیم شامل ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے وکلاء نے عدالت میں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا کہ نچلی عدالت کے احکامات نے امیگریشن ایجنڈے کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ قوم کو غیرملکی دہشتگرد تنظیموں کیخلاف تحفظ کی صلاحیت پر خطرات منڈلا رہے ہیں۔
ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سیکریٹری کرسٹی نوم کا بیان:
ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سکریٹری کرسٹی نوم نے ایکس کو پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں کہا، کہ "امریکا میں دہشت گرد ہونے کے لیے آج ایک برا دن ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ "دہشت گردوں کو اس ملک سے باہر نکالنے کے لیے ایلین اینیمیز ایکٹ استعمال کرنے کے حوالے سے اپنے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے درست تھے۔"
اٹارنی جنرل پام بوندی کا بیان:
اس سے قبل اٹارنی جنرل پام بوندی نے فیصلے کو قانون کی حکمرانی کی فتح قرار دیدیا۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ واشگٹن ڈی سی کے ایک ایکٹوسٹ جج کے پاس صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی چلانے اور امریکی عوام کو محفوظ رکھنے کے اختیار پر قبضہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ "محکمہ انصاف امریکہ کو دوبارہ محفوظ بنانے کے لیے عدالت میں لڑتا رہے گا۔"
نائب صدر جے ڈی وینس کا جواب:
نائب صدر جے ڈی وینس نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "یہ پاگلوں کے لیے ایک بڑا نقصان اور امریکی عوام کے لیے ایک بڑی جیت ہے۔"