ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر ایران پر ممکنہ حملے کی ڈیڈ لائن میں دو ہفتے کی توسیع کر دی ہے۔ اس اقدام سے عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر تباہی سے بچاؤ ممکن ہوا، اور امریکہ کا ایران پر انتہائی خطرناک حملہ محض ایک گھنٹہ قبل مؤخر کیا گیا۔
صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے تفصیلی گفتگو کی، جنہوں نے درخواست کی کہ ایران میں ممکنہ تباہی کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
ٹرمپ نے لکھا کہ جنگ بندی ایرانی آبنائے ہرمز کے مکمل تحفظ کے عزم سے مشروط ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ دو ہفتے کے لیے ایران پر حملے کو موخر کرنے پر رضامند ہیں، یہ اقدام دو طرفہ جنگ بندی کے طور پر لیا گیا ہے اور امریکی افواج نے اپنے تمام فوجی مقاصد پہلے ہی حاصل کر لیے ہیں۔
قبل ازیں، وزیر اعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ وہ امریکی صدر سے مخلصانہ درخواست کرتے ہیں کہ ایران پر حملے کی ڈیڈ لائن میں دو ہفتے کی توسیع دی جائے۔ انہوں نے ایرانی حکام سے بھی اپیل کی کہ وہ اس مدت کے دوران آبنائے ہرمز کو کھولیں تاکہ سفارتی کوششیں کامیاب ہو سکیں۔
شہباز شریف نے زور دیا کہ فریقین کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کرنے کا موقع دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو ہفتے کی جنگ بندی خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔