ویب ڈیسک: امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد دنیا بھر کے ممالک اور عالمی رہنماؤں نے اس پیشرفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کے قیام پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنگ بندی کو مثبت پیشرفت قرار دیتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ معاہدے کی مکمل پاسداری کریں تاکہ خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔ انہوں نے شہریوں کے تحفظ اور انسانی جانوں کے ضیاع کو کم سے کم رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا، جبکہ پاکستان سمیت دیگر ممالک کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔
آسٹریلیا، ملائیشیا، جاپان، مصر، انڈونیشیا، عراق اور نیوزی لینڈ سمیت متعدد ممالک نے بھی اس جنگ بندی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فریقین کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔
مصر کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ جنگ بندی سفارت کاری اور مذاکرات کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے، جس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اسی طرح آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے امید ظاہر کی کہ یہ پیشرفت خطے میں دیرپا استحکام کا باعث بنے گی، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ مستقل امن کے لیے مزید عملی اقدامات ضروری ہیں۔
انڈونیشیا کی وزارت خارجہ نے زور دیا کہ تمام فریقین خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سفارتی اصولوں کا احترام کریں۔ ساتھ ہی اقوام متحدہ سے امن فوجیوں کی ہلاکت کے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے خطے میں جامع اور دیرپا امن کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی دس نکاتی تجویز کو عملی شکل دے کر ایک وسیع امن معاہدے میں تبدیل کیا جانا چاہیے، جو نہ صرف ایران بلکہ عراق، لبنان اور یمن میں بھی استحکام لانے میں مددگار ہو۔
جاپان کے حکومتی ترجمان منورو کہارا نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی ایک مثبت پیشرفت ہے اور ضروری ہے کہ حالات حقیقی معنوں میں امن کی جانب بڑھیں۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے لیے محفوظ گزرگاہ کی اہمیت پر بھی زور دیا اور امید ظاہر کی کہ سفارت کاری کے ذریعے جلد حتمی معاہدہ طے پا جائے گا۔
عالمی رہنماؤں نے پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کی ثالثی کوششوں کو بھی سراہا، جنہوں نے اس جنگ بندی کو ممکن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ماہرین کے مطابق یہ پیشرفت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور وسیع تر امن کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔