ایران-امریکا جنگ بندی: پاکستان کی کامیاب ثالثی کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

ایران-امریکا جنگ بندی: پاکستان کی کامیاب ثالثی کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی
کیپشن: ایران-امریکا جنگ بندی: پاکستان کی کامیاب ثالثی کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

ویب ڈیسک: ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے پیچھے پاکستان کی مہارت اور سفارتی کوششیں سامنے آ گئی ہیں، جس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح پاکستان نے ناممکن کو ممکن بنا کر دنیا کو ایک بڑی جنگ سے بچایا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق یہ جنگ بندی محض اتفاق نہیں بلکہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کی جانب سے انجام دیا گیا ایک انتہائی "خفیہ مشن" تھا، جس نے خطے میں ممکنہ انسانی اور اقتصادی تباہی سے بچاؤ میں کلیدی کردار ادا کیا۔

ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ روز اور رات پاکستان کی قیادت کے لیے ملکی تاریخ کے مشکل ترین لمحات میں سے ایک تھے، جب ایک طرف جنگ کی ڈیڈ لائن ختم ہو رہی تھی، تو دوسری طرف اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہا تھا۔

یہ سفارتی مشن تین اہم مراحل میں مکمل کیا گیا:

پہلا مرحلہ: منگل کی صبح سے شروع ہو کر دن 10 بجے تک جاری رہا، جس میں امریکا، ایران، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ ابتدائی رابطے قائم کیے گئے۔
دوسرا مرحلہ: شام 6 بجے سے رات 9:30 بجے تک جاری رہا، جس دوران چین اور روس کی قیادت سے بھی تین مرتبہ رابطہ کر کے انہیں اعتماد میں لیا گیا۔
تیسرا اور فیصلہ کن مرحلہ: رات 11:45 بجے شروع ہوا اور صبح 4 بجے تک جاری رہا، جس میں جنگ بندی کے حتمی نکات پر اتفاق رائے حاصل کیا گیا۔

اس عمل میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس سٹاف عاصم منیر براہِ راست مشغول تھے، جبکہ وزارت خارجہ اور قومی سلامتی کے اداروں کے پس پردہ کردار بھی انتہائی اہم تھے۔

ذرائع نے کہا کہ انتہائی ذمہ داری اور رازداری کے ساتھ مکمل کیے گئے یہ اقدامات آخر کار کامیاب ثابت ہوئے، اور پاکستان نے ایک بار پھر عالمی سطح پر اپنی تزویراتی اہمیت اور ثالثی کی صلاحیت کو منوایا۔

Watch Live Public News