ٹیکساس یا "چھوٹا بھارت"؟بھارتی امریکی ورکرز کی ملازمتوں اور خود مختاری کیلئے سب سے بڑا خطرہ

ٹیکساس یا

(ویب ڈیسک ) جہاں اسپرنگ فیلڈ، اوہائیو ہائیٹی کے پناہ گزینوں کی وجہ سے سماجی بوجھ تلے دبا ہوا ہے، وہیں ٹیکساس میں بھارتی ایچ ون بی (H-1B) ویزا کا غلبہ ایک خاموش مگر بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

2025 کے اعداد و شمار کے مطابق ٹیکساس میں بھارتی باشندوں کی تعداد 5 لاکھ 44 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جو 2010 کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے۔ کولن کاؤنٹی، فرسکو اور ارونگ جیسے شہروں میں بھارتی آبادی کا تناسب 10 فیصد سے 33 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس سے مقامی امریکی اپنے ہی علاقوں میں اجنبی بن گئے ہیں۔

  بھارتی شہری امریکہ کے کل ایچ ون بی ویزوں کا 72-71 فیصد حصہ حاصل کر لیتے ہیں۔ ٹیکساس میں 'کنیزنٹ' (Cognizant) اور 'انفوسس' (Infosys) جیسی کمپنیوں نے تقریباً 96,000 غیر ملکی ورکرز بھرتی کیے، جس سے امریکی شہریوں کی ملازمتوں پر قبضہ ہوا۔ ڈزنی جیسے واقعات میں امریکی ورکرز کو نکالنے سے پہلے انہیں بھارتی متبادلات کو تربیت دینے پر مجبور کیا گیا۔

مائیکروسافٹ، گوگل، فیڈ ایکس اور ایڈوب جیسی 11 بڑی کمپنیوں کے سی ای او (CEOs) بھارتی نژاد ہیں، جو مجموعی طور پر 6.5 ٹریلین ڈالر کی مارکیٹ کیپ کو کنٹرول کرتے ہیں۔ بھارتیوں کی بلند آمدنی نے فرسکو اور آسٹن جیسے شہروں میں گھروں کی قیمتیں اتنی بڑھا دی ہیں کہ مقامی ٹیکساسی وہاں گھر خریدنے سے قاصر ہیں۔

ٹیکساس ریپبلکن پارٹی کے چیئرمین ابراہم جارج سے لے کر ایف بی آئی (FBI) ڈائریکٹر کاش پٹیل اور ڈی این آئی (DNI) تلسی گبارڈ تک، حساس ترین قومی سلامتی اور سیاسی عہدوں پر بھارتی اور ہندو نژاد افراد کا قبضہ ہو چکا ہے۔

نیویارک ٹائمز  نے  رپورٹ میں انکشاف کیا کہ بھارتی ٹائیکون انیل امبانی نے جیفری ایپسٹین کے ذریعے ٹرمپ وائٹ ہاؤس اور امریکی خارجہ پالیسی کے بارے میں خفیہ معلومات حاصل کیں۔

Watch Live Public News