اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کی غزہ شہر پر قبضے کے منصوبے کی منظوری

اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کی غزہ شہر پر قبضے کے منصوبے کی منظوری
کیپشن: اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کی غزہ شہر پر قبضے کے منصوبے کی منظوری

ویب ڈیسک: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق، سکیورٹی کابینہ نے غزہ شہر پر قبضے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق، اسرائیلی فوج نے آج صبح غزہ کے شمالی حصے میں رہائشیوں کو جبری انخلا کا حکم دیا ہے، جس سے خدشہ ہے کہ فوجی کارروائیاں مزید پھیل سکتی ہیں۔ دوسری جانب حماس نے واضح اعلان کیا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کا قبضہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

امریکی خبر ایجنسی کے مطابق، یہ فیصلہ سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد سے جاری اسرائیل کی 22 ماہ طویل جوابی کارروائیوں میں شدت کی علامت ہے۔ فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل حماس کا خاتمہ اور غزہ کی آبادی کو آزادی دلانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل وہاں مستقل تسلط نہیں چاہتا بلکہ یہ علاقہ ایسی عرب افواج کے حوالے کرنا چاہتا ہے جو اسرائیل کے لیے خطرہ نہ ہوں اور غزہ کے شہریوں کو بہتر زندگی فراہم کریں۔

اسرائیلی ملٹری چیف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس سے یرغمالیوں کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے اور تقریباً دو سال طویل جنگ کے بعد فوج پر مزید دباؤ بڑھے گا۔ یروشلم میں کئی یرغمالیوں کے اہل خانہ نے بھی اس منصوبے کے خلاف احتجاج کیا۔

غزہ شہر کی موجودہ آبادی کے درست اعداد و شمار واضح نہیں، کیونکہ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں لاکھوں افراد وہاں سے نکل گئے تھے، مگر بعد میں کچھ لوگ واپس آ گئے۔ ماہرین کے مطابق، فوجی کارروائی میں وسعت سے ہزاروں فلسطینی اور تقریباً 20 اسرائیلی یرغمالی خطرے میں پڑ سکتے ہیں، جبکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید دباؤ اور تنہائی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

Watch Live Public News