ویب ڈیسک: اوپن اے آئی نے مصنوعی ذہانت کے اپنے سب سے جدید ورژن "چیٹ جی پی ٹی 5" کے اجرا کا اعلان کر دیا، جو تمام صارفین کے لیے بالکل مفت ہوگا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ نیا ماڈل نہ صرف جی پی ٹی 4 سے زیادہ ذہین اور تیز ہے بلکہ تحریر نویسی، کوڈنگ اور صحت جیسے اہم شعبوں میں شاندار نتائج فراہم کرے گا۔
اوپن اے آئی کے مطابق جی پی ٹی 5 کو 5 ہزار گھنٹے کے سخت جانچ عمل سے گزارا گیا، جس کے نتیجے میں یہ ماڈل تحریر نویسی، کوڈنگ اور صحت کے شعبے میں انتہائی مؤثر ثابت ہوگا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ نیا سسٹم زیادہ پیچیدہ سوالات کو بہتر طور پر سمجھنے، محفوظ جوابات دینے اور غلط معلومات سے بچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹمین نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جی پی ٹی 4 پر واپس جانا ان کے لیے مایوس کن تجربہ تھا، کیونکہ جی پی ٹی 5 کارکردگی اور جواب دینے کے معیار میں نمایاں فرق پیدا کرتا ہے۔
کمپنی کو توقع ہے کہ اس ہفتے چیٹ جی پی ٹی کے ہفتہ وار صارفین کی تعداد 70 کروڑ تک پہنچ جائے گی، جبکہ سرمایہ کاروں سے جاری بات چیت کے بعد کمپنی کی ممکنہ قدر 500 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
جی پی ٹی 5 کا ایک نمایاں فیچر "ریزننگ موڈ" ہے، جو سافٹ ویئر کو جواب دینے سے پہلے اندرونی طور پر سوچنے اور منطقی مراحل سے گزرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ اگرچہ مفت صارفین کے لیے روزانہ کے استعمال کی ایک حد مقرر ہے، لیکن اس کے بعد بھی وہ جی پی ٹی 5 منی سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
کمپنی کے مطابق یہ نیا ماڈل اپنی حدود واضح طور پر بیان کرتا ہے، قیاس آرائی سے گریز کرتا ہے اور غیر مصدقہ دعووں کی تعداد کو نمایاں حد تک کم کرتا ہے، جس سے یہ اپنے پیشرو ماڈلز کے مقابلے میں زیادہ محفوظ اور قابلِ اعتماد ہے۔