حماس نے معاہدے کے تحت مزید3اسرائیلی یرغمالی رہا کردیے

حماس نے معاہدے کے تحت مزید3اسرائیلی یرغمالی رہا کردیے
کیپشن: حماس نے معاہدے کے تحت مزید3اسرائیلی یرغمالی رہا کردیے

 ویب ڈیسک : حماس نے تین اسرائیلی زیر حراست افراد کو غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کے تحت آج رہا کردیا گیا ہے۔ حماس کے عسکری ونگ کے ترجمان ابو عبیدہ نے اپنے ٹیلی گرام پیج پر بتایا کہ جن قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے ان میں لیاہو شرابی، اور لیوی اور اوھاد بن عامی شامل ہیں۔

حماس نے اعلان کیا کہ اسرائیل کل 183 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا جن میں سے 18 کو عمر قید، 54 قیدیوں کو بڑی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ ان میں غزہ کی پٹی کے 111 ایسے قیدی بھی شامل ہیں جنہیں 7 اکتوبر 2023 کو حملے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

حماس کے مطابق، اوہد بین امی، ایلی شرابی اور اور لیوی کو اسرائیلی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس پیش رفت کو "مثبت قدم" قرار دیا، جبکہ فلسطینی تنظیموں نے اسرائیل پر انسانی امداد میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگایا ہے۔

"العربیہ" کے نجی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی پانچویں قسط میں ہفتہ کو رہا کیے جانے والے قیدیوں کے نام جمع کرانے میں تاخیر ہو سکتی ہے جو اسرائیل اور حماس کی طرف سے ثالثوں کے لیے ایک پیغام ہے۔

جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کیلئے دوحہ میں مذاکرات

دریں اثنا اسرائیلی پبلک براڈکاسٹنگ اتھارٹی نے  کہاہے کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے پر بات چیت کے لیے ایک اسرائیلی وفد آج  قطری دارالحکومت دوحہ جائے گا۔

ذرائع نے وضاحت کی ہے کہ حماس نے ثالثوں کو آگاہ کیا ہے کہ اسرائیل نے منظور شدہ انسانی پروٹوکول کی پاسداری نہیں کی۔ خاص طور پر موبائل گھروں، خیموں اور ملبہ ہٹانے کے لیے ضروری سامان لانے، ہسپتالوں کی بحالی اور ایندھن فراہم کرنے کے حوالے سے پروٹوکول کا دھیان نہیں رکھا گیا۔ سخت سردی میں شہریوں اور بے گھر ہونے والوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ذرائع نے مزید کہا کہ حماس نے ثالثوں بالخصوص مصر اور قطر سے مطالبہ کیا کہ وہ مداخلت کریں اور اسرائیل پر دباؤ ڈالیں کہ وہ معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ ایسے وقت میں جب اسرائیل اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں مسلسل تاخیر کر رہا ہے۔

غزہ سے 60 فلسطینی گرفتار، اسلحہ برآمد کرنیکا دعوی

 دوسری طرف اسرائیلی فوج نے   غزہ کے مغربی کنارے سے 60 سے زیادہ  فلسطینیوں  کو حراست میں لے لیاجبکہ   اسلحہ کی بھاری مقدار برآمد کرنے کا دعوی کیا ہے

ضبط کیے گئے اسلحے میں متعدد M-16 رائفلیں، ہینڈگن اور کارلو آتشیں اسلحے کے ساتھ ساتھ دھماکہ خیز مواد اور دھماکہ خیز مواد کی تیاری کے لیے ضروری مواد بھی شامل ہے۔

تین مرحلوں پر مشتمل جنگ بندی کے معاہدے میں لڑائی کے خاتمے اور آبادی والے علاقوں سے اسرائیل کا انخلا طے کیا گیا تھا۔ پہلا مرحلہ چھ ہفتوں تک جاری ہے۔ اس میں غزہ سے 33 یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے تقریباً 1,900 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کی بات کی گئی ہے۔
جنگ بندی معاہدے کے تحت اب تک 13 اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے میں سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے، جبکہ پانچ تھائی باشندوں کو بھی واپس بھیجا گیا ہے۔ اس معاہدے کے پہلے 42 روزہ مرحلے میں مزید رہائیوں کی توقع کی جا رہی ہے۔

Watch Live Public News