کیا مسک نے واقعی ٹرمپ کی کرسی پر قبضہ کرلیا؟

کیا مسک نے واقعی ٹرمپ کی کرسی پر قبضہ کرلیا؟
کیپشن: کیا مسک نے واقعی ٹرمپ کی کرسی پر قبضہ کرلیا؟

ویب ڈیسک: (علی زیدی) ٹائم میگزین کے کور پر چھپنے والی ایک تصویر نے امریکا میں نیا تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔ جس کے بعد دنیا کے امیر ترین شخص کو ایلون مسک کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق ٹائم میگزین کی جانب سے حالیہ اشاعت نے پہلے سے تنقید میں گھرے ہوئے ایلون مسک کو ایک نئی تنازعے میں الجھا دیا ہے، ٹائم میگزین نے اپنے کور پر ایک تصویر شائع کی ہے۔ جس میں ایلون مسک کو امریکی صدر کے دفتر میں ان کی کرسی پر بیٹھے دکھایا گیا ہے۔ 

تصویر کے شائع ہونے کے بعد ایک امریکا میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئی ہیں کہ کیا واقعی ایلون مسک نے صدر ٹرمپ کی کرسی پر قبضہ کرلیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق دنیا کے امیر ترین شخص وائٹ ہاؤس پر اپنا اثررسوخ بڑھانے کی غیرمعمولی کوششیں کررہے ہیں۔ 

ذرائع کے مطابق ایلون مسک اپنے سرکاری دفتر میں میں رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں اور مبینہ طور پر ٹرمپ کے نزدیک رہنے کیلئے اپنے دفتر میں سوجاتے ہیں۔ 

میگزین کے سادہ کور میں مسک کو ہاتھ میں کافی کا کپ تھامے امریکی صدر کے میز پر بیٹھے دکھایا گیا ہے۔ جس کے ایک سائیڈ پرامریکی اور دوسری سائیڈ پر صدارتی جھنڈا ہے۔ میگزین نے لکھا ہے کہ ٹرمپ نے لاکھوں سرکاری ملازمین کو مسک کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ 

میگزین نے مزید لکھا ہے کہ اب تک، مسک صدر ٹرمپ کے علاوہ کسی کے سامنے جوابدہ نظر نہیں آتا۔

میگزین نے مزید لکھا ہے کہ DOGE کے کام کے بارے میں TIME نے تمام سوالات وائٹ ہاؤس کو بھیجے۔ جس نے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔"

یاد رہے کہ ٹرمپ کے بعد میگزین نے مسک کو بھی اپنے سرورق پر دوسری مرتبہ جگہ دی ہے۔ اس سے قبل گزشتہ سال نومبر میں بھی ایلون مسک کی تصویر سرورق پر شائع کی گئی تھی۔ جس میں انہیں امیر ترین شخص کیساتھ ایک کنگ میکر کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔ 

جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے کور کے بارے میں پوچھا گیا۔

جس پر ٹرمپ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ "کیا ٹائم میگزین اب بھی کاروبار کررہا ہے؟"’’مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا۔‘‘

یاد رہے کہ ایلون مسک کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خصوصی سرکاری ملازم کا درجہ دیا ہے۔ 

یہ عہدہ ایلون مسک کو وفاقی حکومت کے لیے کام کرنے کی اجازت دیتا ہے لیکن ممکنہ طور پر انھیں مفادات کے ٹکراؤ اور مالی معاملات ظاہر کرنے والے اُن قواعد سے مستثنیٰ رکھتا ہے جو امریکا کے عام سرکاری ملازمین پر لاگو ہوتے ہیں۔

مسک الیکٹرک کار کمپنی ’ ٹیسلا‘ اور ایرو سپیس کمپنی ’سپیس ایکس‘ چلانے کے ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ کے مشیر بھی ہیں اور انھیں کفایت شعاری مہم یعنی ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی (Doge) کی قیادت سونپی گئی ہے۔ ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی ایک سرکاری ادارہ یا محکمہ نہیں بلکہ ایک ٹیم ہے جسے ٹرمپ نے غیر ضروری حکومتی اخراجات میں کٹوتی کے لیے وسیع اختیارات دیے ہیں۔

اس کی قانونی حیثیت تو غیر واضح ہے ہی مگر اس کے ساتھ اس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کانگریس سے مشاورت کے بغیر یو ایس ایّڈ جیسی حکومتی ایجنسیاں بند کرنے کے اختیار کے متعلق بھی خاصا ابہام پایا جاتا ہے اور مسک اور ان کی ٹیم کو اس ضمن میں کئی عدالتی چیلنجز کا سامنا ہے۔

Watch Live Public News

کونٹینٹ پروڈیوسر