ویب ڈیسک: ایران کے ترجمان وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ موجودہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی براہِ راست ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ اسرائیل کے اقدامات کو امریکی پالیسیوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
تہران میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ اسرائیل امریکا کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے بغیر خطے میں کسی بڑے اقدام کا آغاز کر سکتا ہے۔ ان کے بقول خطے میں حالیہ پیش رفت اور کشیدگی میں اضافہ امریکی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا نے جنگ بندی کے تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے، جبکہ ایران اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں پر قائم رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے دفاع کے لیے ہر سطح پر تیار ہے اور سفارت کاری کے ساتھ ساتھ دفاعی اقدامات بھی جاری رکھے گا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ لبنان میں جنگ کا خاتمہ جنگ بندی معاہدے کا بنیادی حصہ تھا، تاہم جب معاہدے کی شقوں کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو سفارتی عمل بھی متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی قومی ترجیحات کے تحفظ کے لیے سفارتی اور دفاعی دونوں راستے اختیار کرتا رہے گا۔
ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکا کی متضاد پالیسیوں اور بیانات نے سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان انتہائی بے اعتمادی کے ماحول میں پیغامات کا تبادلہ جاری تھا، تاہم حالیہ واقعات نے مذاکراتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
انہوں نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے ان کا مؤقف جانبدارانہ اور غیر تکنیکی رہا ہے۔ اسماعیل بقائی کے مطابق اسرائیل خطے میں استحکام پیدا کرنے والی سفارتی کوششوں کا احترام نہیں کرتا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی مسلح افواج نے سعودی عرب کی جانب کوئی حملہ نہیں کیا۔