ویب ڈیسک: بائیڈن کے دورحکومت میں سی بی پی ون ایپ استعمال کرنے والوں کی پیرول پروٹیکشن ختم کردی گئی ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے انہیں فوری امریکا چھوڑنے کا حکم دیدیا گیا ہے۔
یہ ایپ 1 ملین سے زائد تارکین وطن نے استعمال کی جن کی آفیشل پورٹس پر امریکا میں داخلے کے سماعت شیڈول ہیں اور انہیں 2 سال کا عارضی ورک جاری کیا گیا تھا تاکہ وہ اپنے کیس پر فیصلہ کرواسکیں۔
تاہم امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے مدت ملازمت کے پہلے دن ہی سی بی پی ون ایپ کی پیرول تحفظ ختم کردیا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے تارکین کی درخواستوں پر سماعت بھی روک دی ہے اور آئی سی ای پولیس کو تارکین کے پیرول سٹیٹس کو ختم کرنے کا اختیار دیدیا ہے۔
فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے تارکین کو پیغام بھیجا گیا ہے۔ جس میں انہیں مطلع کیا گیا ہے کہ ان کا سی بی پی ون ایپ پر قانونی اسٹیٹس تبدیل کردیا گیا ہے۔
پیغام میں کہا گیا ہے کہ اگر آپ فوری طور پر امریکا سے نہ گئے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے زبردستی آپ کو ملک بدر کردیں گے یہاں تک کہ آپ کہ پاس یہاں رہنے کا کوئی اور جواز نہ ہو۔
پیغام میں تارکین کی سی بی پی ون ایپ پر سیلف ڈی پورٹیشن کیلئے رجسٹریشن کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ سی بی پی ون ایپ کا نام تبدیل کرکے اب سی بی پی ہوم رکھا گیا ہے۔
پیغام میں واضح کیا گیا ہے کہ ڈی ایچ ایس نے آپ کا پیرول مسترد کردیا ہے۔ امریکا میں غیرقانونی طور پر رہنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ وفاقی حکومت آپ کو ڈھونڈ نکالے گی۔