بھارتی کینٹونمنٹ میں سڑکوں کی بندش: 2026 میں فوجی اقدامات سے شہری زندگی متاثر

بھارتی کینٹونمنٹ میں سڑکوں کی بندش: 2026 میں فوجی اقدامات سے شہری زندگی متاثر

(ویب ڈیسک) بھارتی کینٹونمنٹ میں سڑکوں کی بندش کے باعث شہری زندگی شدید متاثر ہے۔

  فروری 2026 میں پونے کینٹونمنٹ میں شدید عوامی غم و غصہ دیکھنے میں آیا، جب پونے کینٹونمںٹ سیٹیزن ویلفیئر ایوسی ایشن نے میجرجنرل وشال اگروال جو ایچ کیو ڈی ایم ایس اے کے جی او سی پونےہیں ) کو ایک سخت احتجاجی مراسلہ پیش کیا۔ رہائشیوں نے اندرونی سڑکوں پر نئی رکاوٹیں، آر سی سی ستون اور آہنی دروازے لگانے کو “غیر قانونی، غیر متناسب اور عوامی زندگی کے لیے نقصان دہ” قرار دیا۔

ان من مانے راستہ بند کرنے کے اقدامات نے روزانہ سفر کرنے والوں، اسکول جانے والے بچوں اور مقامی کاروبار کو لمبے متبادل راستوں پر مجبور کر دیا، جس سے شدید ٹریفک، ایندھن کے اخراجات میں اضافہ اور معمولات زندگی میں بڑی رکاوٹ پیدا ہوئی۔

وزارتِ دفاع (MoD) کی واضح ہدایات کے باوجود—جن میں غیر ضروری رکاوٹیں اور چیک پوسٹس ہٹانے اور شہری گاڑیوں کو روکنے یا چیک کرنے سے منع کیا گیا تھا—مقامی فوجی حکام (LMAs) بدستور من مانی کر رہے ہیں۔ ایسوسی ایشن نے فوری طور پر ان رکاوٹوں کے خاتمے اور آزادانہ عوامی نقل و حرکت کی بحالی کا مطالبہ کیا، اور کہا کہ یہ اقدامات سابقہ احکامات اور شہری حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ اسی طرح کی بے چینی سکندرآباد کینٹونمنٹ میں بھی برسوں سے جاری ہے۔

 2025 میں فیڈریشن آف نارتھ ایسٹرن کالونیز سکندرآباد نے مارچ اور اگست میں متعدد احتجاج کیے، جن میں اموگوڈا گیٹ، ہولی ٹرینیٹی چرچ اور ایگل چوک جیسے مقامات پر راستوں کی بندش کے خلاف آواز اٹھائی گئی۔ رہائشیوں نے فوج پر الزام لگایا کہ وہ “ ٹریفک میں تباہی” اور تقریباً 10 سے 20 لاکھ افراد کے لیے “شدید ہراسانی” کا سبب بن رہی ہے۔

 2026 کے آغاز میں بھی شکایات جاری رہیں، خاص طور پر شہری ترقیاتی کاموں اور ریپلک ڈے 2026  جیسے مواقع پر عارضی پابندیوں کے دوران۔ یہ رجحان واضح اور تشویشناک ہے۔

 2018 میں ملک گیر ردِعمل کے بعد، جب وزارت دفاع  کو عوامی اور پارلیمانی دباؤ کے تحت بند سڑکیں کھولنے کا حکم دینا پڑا، اس کے باوجود فوج نے بارہا شہری دوست پالیسیوں کی خلاف ورزی کی۔ سیکیورٹی کے نام پر مقامی فوجی حکام بغیر مناسب اطلاع، شفافیت یا کینٹونمنٹ ایکٹ کی پابندی کے بغیر پابندیاں عائد کرتے ہیں۔

مختصر راستے طویل اور اذیت ناک سفر میں بدل جاتے ہیں، اسکول اور کاروبار متاثر ہوتے ہیں، اور عام شہری وقت، پیسے اور عزت کی قیمت چکاتے ہیں۔

یہ مسئلہ قومی سلامتی کا نہیں بلکہ شہری علاقوں میں فوجی بالادستی اور نوآبادیاتی ذہنیت کا عکاس ہے۔ پونے، سکندرآباد اور دہلی کینٹونمںٹ  کے شہری روزانہ مشکلات اور تضحیک کا سامنا کر رہے ہیں۔ فروری 2026 میں سڑکوں کے نام تبدیل کرنے کی مہم (246 سڑکیں اور عمارتیں) بھی عوامی رسائی کے بنیادی مسئلے کو حل نہ کر سکی۔

 بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے، مگر اس کے کینٹونمنٹ علاقوں میں شہری آزادی اور نقل و حرکت کے حقوق مسلسل فوجی اختیارات کے تحت محدود کیے جا رہے ہیں۔ وزارتِ دفاع کے احکامات کی مسلسل خلاف ورزی ایک خطرناک حقیقت کو ظاہر کرتی ہے: “نئے بھارت” میں بھی شہریوں کو اپنے ہی ملک میں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔

Watch Live Public News