ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے 15 اگست 2025 کو امریکی ریاست الاسکا میں ملاقات کریں گے۔ یہ ملاقات یوکرین تنازع کے مستقل حل اور ممکنہ امن معاہدے تک پہنچنے کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ" پر ایک پوسٹ میں اس ملاقات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مزید تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔
.jpg)
کریملن کے ایک معاون نے بھی اس ملاقات کی تصدیق کر دی ہے۔ اگر یہ ملاقات طے شدہ وقت پر ہوتی ہے تو یہ 2021 کے بعد پہلی بار ہو گا کہ امریکی اور روسی صدور آمنے سامنے بات چیت کریں گے۔ اس سے قبل جون 2021 میں سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے جنیوا میں پیوٹن سے ملاقات کی تھی۔
صدر ٹرمپ نے حال ہی میں وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران اس ملاقات کے وقت اور مقام کے بارے میں بتانے سے گریز کیا تھا، لیکن عندیہ دیا تھا کہ وہ جلد اعلان کریں گے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اشارہ دیا تھا کہ پیوٹن کے ساتھ یہ ملاقات یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے کسی بھی بات چیت سے پہلے ہو سکتی ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ روس کے ساتھ ملاقات کے لیے ایک ایسا مقام منتخب کریں گے جو "بہت مقبول" ہو گا، اور بالآخر الاسکا کا نام سامنے آیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ ملاقات یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم موقع فراہم کر سکتی ہے، تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ اس سے لڑائی رک جائے گی کیونکہ ماسکو اور کیف اپنے اپنے امن کے مطالبات پر اب بھی شدید اختلاف رکھتے ہیں۔
ادھر ماسکو کی جانب سے فوری طور پر ملاقات کے مقام اور تاریخ کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی، تاہم دونوں ممالک کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی سطح پر ایک اہم رابطہ جلد متوقع ہے۔