ویب ڈیسک:بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع بیجاپور میں سیکیورٹی فورسز نے ایک آپریشن کے دوران 31 ماؤنواز باغی مارے گئے ہیں۔ جبکہ 2 سیکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پولیس حکام نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ آپریشن کے آغاز پر مرنے والے ماؤنواز باغیوں کی تعداد 12 تھی جو کہ بعد میں 31 تک پہنچ گئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے بیجاپور ضلع میں ہی سیکورٹی فورسز کے ایک اور آپریشن میں آٹھ ماؤنواز باغی مارے گئے تھے۔
پولیس حکام نے یہ بھی تصدیق کی کہ دوران آپریشن 2 اہلکار ہلاک ہوئے جن میں ایک ڈسٹرکٹ ریزروگارڈ اور دوسرا اسپیشل ٹاسک فورس کا اہلکار شامل تھا۔ جب کہ 2 اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔
واضح رہے کہ ایک سینئر پولیس اہلکار نے خبرایجنسی کو بتایا تھا کہ گزشتہ ہفتے آپریشن اس وقت شروع ہوا جب پولیس ماؤنواز باغیوں کیخلاف آپریشن پر نکل رہی تھی۔ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ مغربی علاقے میں باغیوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔
حکومت آئندہ سال تک ماؤنوازباغیوں کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے۔ دوسری جانب وزیرداخلہ امیت شاہ کہہ چکے ہیں کہ 6 جنوری کو ماؤنواز باغیوں نے ایک گاڑی کو دھماکے سے اڑا دیاجس کے نتیجہ میں 8 جوانوں کی جان چلی گئی۔
پولیس حکام نے بتایا کہ مشترکہ آپریشن دنتے واڑہ،نارائن پور اور بیجاپور میں کیا گیا۔
پولیس اہلکار نے بتایا ہے کہ ماؤنواز باغیوں کا حملہ گزشتہ 2سال میں ہونے والا سب سے بڑا حملہ ہے ۔اس سے قبل 26 اپریل 2023 کو ایک حملے میں 10 پولیس اہلکار اور ایک عام ڈرائیور جاں بحق ہوئے تھے۔ اس حملے میں بھی ماؤنواز باغیوں نے گاڑی کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔
وزیر داخلہ امت شاہ نے مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم X پر اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بیجاپور میں آئی ای ڈی دھماکے میں ڈی آر جی سپاہیوں کی ہلاکت کی خبر سے انہیں بہت دکھ ہوا ہے۔ "اس دکھ کو الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے، لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہمارے فوجیوں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔