ویب ڈیسک : ( علی زیدی ) نو منتخب صدر امریکا کا قومی اقتصادی ایمرجنسی نافذ کرنے پر غور۔۔۔ عالمی تجارت کا توازن امریکا کے حق میں کرنے کے لئے اتحادیوں اور مخالفین پر دل کھول کے ٹیکس لگائے جاسکیں گے ۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دوسری مدت اقتدار کے دوران ہر صورت میں MAGA یعنی امریکا کو دوبارہ عظیم بنانے کے مشن کے لئے ہر ممکن اقدام کرسکتے ہیں۔
سی این این ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ بین الاقوامی اقتصادی ایمرجنسی پاورز ایکٹ، جسے "IEEPA" کے نام سے جانا جاتا ہے کا استعمال کرتے ہوئے قومی ایمرجنسی کے دوران ایک نیا ٹیرف پروگرام متعارف کرائیں گے اور اس طرح درآمدات کا انتظام کلی طور پر ان کے ہاتھ میں ہوگا۔
ایکٹ کے تحت حاصل صدر کو وسیع دائرہ اختیار مل جائے گا اور قومی سلامتی کے نام پر من مانے ٹیرف نافذ کئے جاسکیں گے ۔ٹرمپ ٹرانزیشن ٹیم نے سی این این کی جانب سے موقف جاننے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
یادرہے2019 میں، ٹرمپ نے میکسیکو کو دھمکی دی تھی کہ اگر میکسیکو نے ریاستہائے متحدہ کے ساتھ سرحد عبور کرنے والے غیر دستاویزی تارکین وطن کی تعداد کو کم کرنے کے لیے کارروائی کرنے سے انکار کیا تو میکسیکو کی تمام درآمدات پر عائد 5% ٹیرف کوIEEPA کے تحت 25% تک بڑھا دیا جائے گا ۔
جس پر میکسیکن حکام بھاگے بھاگے واشنگٹن آئے اور "میکسیکو میں ہی رہیں" امیگریشن پالیسی پر مبنی ایک معاہدہ طے پا گیا - اور ٹیرف کو کبھی نافذ نہیں کیا گیا۔
ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ قومی ایمرجنسی کا اعلان کرنے کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ ٹرمپ کی ٹیم اب بھی دیگر قانونی راستے تلاش کر رہی ہے تاکہ ٹیرف لگانے کے لئے جو ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران پیش کیے تھے۔
صدر ٹرمپ کی نائب معاون برائے عالمی اقتصادی امور اور وکیل کیلی این شا کا کہناہے"میرے خیال میں صدر کے پاس مختلف وجوہات کی بنا پر ٹیرف لگانے کا وسیع اختیار ہے، اور ایسا کرنے کے لیے متعدد قانونی بنیادیں ہیں"IEEPA یقینی طور پر ان میں سے ایک ہے۔"
ٹرمپ کے مشیر امریکی تجارتی قانون کے سیکشن 338 کے استعمال کے امکان کا جائزہ لے رہے ہیں، جو ایک صدر کو ان ممالک کے خلاف "نئی یا اضافی ڈیوٹیز" لگانے کی اجازت دیتا ہے جنہیں امریکہ کی تجارت کے خلاف امتیازی سلوک سمجھا جاتا ہے۔ ان معاملات میں، تجارتی قانون صدر کو اجازت دیتا ہے کہ وہ مخصوص مصنوعات کے زمرے میں ان ممالک کے خلاف براہِ راست ردِعمل میں نئے محصولات عائد کرے -
وہ تجارتی قانون پر نظر ثانی کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں - جسے سیکشن 301 کے نام سے جانا جاتا ہے - جس نے قومی سلامتی کی بنیاد پر چین پر ٹرمپ کے ابتدائی محصولات کا آغاز کیا تھا۔ بائیڈن انتظامیہ نے ٹرمپ کے نافذ کردہ زیادہ تر محصولات کو اپنی جگہ پر رکھا ہے تاہم کچھ مصنوعات جیسے الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیرف میں اضافہ کرکے صدر ٹرمپ کو ٹیرف میں اضافہ یا ایڈجسٹ کرنے کی بنیاد فراہم کی ہے،لیکن اس قانون کے تحت محصولات کو لاگو کرنے کے لیے حکومتی تحقیقات کی ضرورت ہوتی ہے، اور تبدیلیوں سے متاثر ہونے والی کمپنیاں اکثر مہینوں تک لابنگ کرتی ہیں تاکہ وہ لیویز سے باہر رہیں۔
یادرہے منگل کو ایک پریس کانفرنس کے دوران، ٹرمپ نے افراط زر پر تنقید کی لیکن یہ بھی کہا، "اگلے چار سالوں میں امریکہ راکٹ جہاز کی طرح ٹیک آف کرنے والا ہے۔ لیکن واقعی یہ پہلے ہی کر رہا ہے۔" ٹرمپ نے حالیہ انتخابات میں معاشی منظوری کی درجہ بندی میں اضافے کی طرف اشارہ کیا۔
ٹیرف کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ امریکی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہیں۔
کولیشن فار اے پراسپرس امریکا کے سینئر نائب صدر نک آئیکولا کا کہنا ہے کہ "ٹرمپ کی ٹیم سمجھتی ہے کہ ہمیں اقتصادی اور قومی سلامتی کی وجوہات کی بنا پر اپنی صنعتی صلاحیت کو دوبارہ بنانا ہوگا، اور یہ کمیونٹیز اور امریکی کارکنوں کے لیے اچھا ہو گا اوران اہداف کو پورا کرنے کے لیے، آپ کے پاس بالکل ایک مضبوط، امریکا نواز تجارتی پالیسی ہونی چاہیے جس میں محصولات شامل ہوں۔"
برطانوی اخبار ’دا انڈیپینڈنٹ‘ کے مدیر برائے سیاسی امور ڈیوڈ میڈوکس محسوس کرتے ہیں کہ ٹرمپ کی باتوں کو سنجیدگی سے دیکھنا چاہیے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ ٹرمپ کا سامراجی رویہ ہے۔ وہ دنیا بھر میں امریکہ کے قدم جمانا چاہتے ہیں۔ یہ سنگین خطرہ ہے۔‘
’ہم ٹرمپ کی نئی انتظامیہ کو ان کے پہلے دور حکومت سے بہت مختلف انداز میں دیکھنے جا رہے ہیں اور یہ باقی دنیا کے لیے بہت غیر مستحکم ہو گا۔‘